اسلام آباد: محکمہ موسمیات نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک پاکستان بھر میں ایک نئے بارشوں کے سلسلے کی پیش گوئی کی ہے جس کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں۔
اس سلسلے کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ، پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور تیز ہواؤں سے انفراسٹرکچر اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق یہ بارشیں مختلف صوبوں کو متاثر کریں گی۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب سمیت اسلام آباد میں 29 اگست سے یکم ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے۔
جنوبی پنجاب میں یہ سلسلہ 29 اگست سے 2 ستمبر تک جاری رہ سکتا ہے جبکہ سندھ میں 30 اور 31 اگست کو بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ بلوچستان اور ملک کے بالائی حصوں میں 30 اگست سے یکم ستمبر کے دوران بارشیں متوقع ہیں۔
موسمیاتی ادارے نے خبردار کیا ہے کہ یہ بارشیں لینڈ سلائیڈنگ اور شہری سیلاب کا باعث بن سکتی ہیں جبکہ آندھی اور گرج چمک سے کمزور ڈھانچوں اور کھڑی فصلوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے رپورٹ دی ہے کہ دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے جبکہ دریائے راوی پر جسر اور شاہدرہ کے مقام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے قریب بھی پانی کی سطح میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 2,000 ٹرک متاثرہ افراد کی ممکنہ نقل مکانی کے لیے تعینات کیے ہیں۔
پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان کاٹھیا کے مطابق دریائے چناب اور راوی کے کنارے آباد تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارشوں کا نیا سلسلہ متوقع ہے لیکن یہ پہلے کی طرح شدید نہیں ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بھارت نے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کے حوالے سے بروقت معلومات فراہم نہیں کیں جس کے باعث پاکستان کو این ڈی ایم اے اور سیٹلائٹ ڈیٹا پر انحصار کرنا پڑا۔
ادھر محکمہ موسمیات نے انکشاف کیا ہے کہ سیالکوٹ نے 24 گھنٹوں میں اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی ہے۔ شہر میں 363.5 ملی میٹر بارش ہوئی، جو 6 اگست 1976 کو ہونے والی 339.7 ملی میٹر بارش کا ریکارڈ توڑ گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








