بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ میں ایک نہایت شرمناک اور چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک نوجوان ہاسٹل کی لڑکیوں کی برہنہ ویڈیوز بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔
واقعہ ہیرا پٹی کالونی کے ایک ہاسٹل میں پیش آیا جہاں ہمانشو رائے نامی نوجوان اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم تھا۔ ہمانشو پر الزام ہے کہ وہ گزشتہ ایک سال سے ہاسٹل کی لڑکیوں کے نہانے کے دوران ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کر رہا تھا۔
یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ اتوار اس وقت سامنے آیا جب دسویں جماعت کی ایک طالبہ نہانے کے لیے باتھ روم گئی اور چھت کے کنارے ایک موبائل فون چھپا ہوا دیکھا۔ لڑکی نے فوری شور مچایا جس پر دیگر طالبات اور ہاسٹل انتظامیہ موقع پر پہنچ گئے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ موبائل ہمانشو نے جان بوجھ کر وہاں چھپایا تھا۔ گرفتار ہونے کے بعد ہمانشو پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے لڑکیوں کو ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں تاکہ وہ پولیس میں شکایت نہ کریں۔
پولیس کے مطابق ہمانشو کے موبائل اور لیپ ٹاپ سے تقریباً 40 فحش ویڈیوز برآمد ہوئی ہیں۔ تمام الیکٹرانک شواہد کو فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور ہمانشو کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش جاری ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے اور اگر مزید متاثرہ لڑکیاں سامنے آئیں تو کارروائی مزید سخت کی جائے گی۔ واقعے کے بعد ہاسٹل کی سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








