پنجاب کے مشرقی دریاؤں میں پانی کی بلند سطح کے باعث سیلاب کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے باعث اب ملتان کی حدود میں ایک بڑا سیلابی ریلا آج شام تک داخل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اس خطرے کے پیشِ نظر تین لاکھ سے زائد افراد محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے شکایت کی ہے کہ کشتیوں کی تعداد ناکافی ہے اور مویشیوں کی منتقلی کے لیے بھی مناسب بندوبست نہیں کیا گیا۔
دریائے ستلج میں جلالپور پیر والا کے مقام پر 50 ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے، جس کی وجہ سے 140 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ راجن پور اور بہاولپور میں بھی ستلج کے کناروں پر بسنے والے افراد نشیبی علاقوں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔
فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور دریا کے قریب رہنے والوں کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
چناب کے سیلابی ریلے نے وزیرآباد اور حافظ آباد کے علاقے بھی متاثر کیے ہیں، جہاں حافظ آباد کے 40 دیہات تاحال زیرِ آب ہیں۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی ضرور آئی ہے لیکن وہاں اب بھی 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ جاری ہے۔ وہاڑی میں دریائے ستلج میں بلند سطح کا سیلاب جاری ہے اور 133 دیہات میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
وہاڑی کی انتظامیہ کے مطابق اب تک 49 ہزار سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 30 ہزار ایکڑ سے زائد زرعی اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہو چکی ہیں۔ 12 ہزار سے زائد افراد اپنی مدد آپ کے تحت اور 2,300 سے زائد افراد ریسکیو اداروں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ 3,281 مویشیوں کو بھی محفوظ علاقوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
لاہور کے مقام شاہدرہ پر دریائے راوی کی سطح میں کمی آنے لگی ہے جہاں اس وقت 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک پانی کا بہاؤ ہے۔ گزشتہ روز یہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 90 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا تھا، جس کے باعث قریبی بستیاں زیرِ آب آ گئی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








