بھارتی ریاست اترپردیش کے ضلع امروہہ میں ایک انتہائی افسوسناک اور دل خراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سسرال والوں کی مبینہ جہیز کی لالچ نے ایک نئی نویلی دلہن کی جان لے لی۔
پولیس کے مطابق کالا کھیدا گاؤں میں 23 سالہ گلفشا کو سسرال والوں نے مبینہ طور پر زبردستی تیزاب پلا دیا جس کے باعث وہ 17 دن تک موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئی۔
یہ واقعہ دیداولی پولیس تھانے کی حدود میں 11 اگست کو پیش آیا۔ گلفشا کی شادی تقریباً ایک سال قبل پرویز نامی نوجوان سے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد سے ہی سسرال والوں کی جانب سے 10 لاکھ روپے نقد اور ایک کار کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ متاثرہ کے اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ انکار پر گلفشا کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور آخر کار اسے زبردستی تیزاب پلا دیا گیا۔
شدید زخمی حالت میں گلفشا کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ 17 دن تک زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکی۔ گلفشا کے والد فرقان کی شکایت پر پولیس نے شوہر پرویز سمیت سات افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ نامزد ملزمان میں عاصم، گلسٹا، منیش، سیف، بھورا اور ببو شامل ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کا مقدمہ درج کرکے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے جس کے بعد قتل اور جہیز سے متعلق سخت دفعات شامل کی جائیں گی۔ انہوں نے یقین دلایا ہے کہ قصورواروں کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








