کراچی کی مقامی عدالت نے صوبائی وزیر سعید غنی کے بھائی اور چینسر ٹاؤن کے چیئرمین فرحان غنی کو تشدد اور دھمکیوں کے مقدمے میں رہا کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ مقدمے کی واپسی کی درخواست پر کیا گیا۔ عدالت میں سماعت کے دوران دونوں فریقین کے دلائل سنے گئے۔
معزز جج نے تین ملزمان جن میں فرحان غنی بھی شامل ہیں کو پولیس اسٹیشن سے رہائی کا حکم دیا۔ ملزمان کے وکیل وقار عالم عباسی نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے کے مدعی سہیل نے ملزمان کے خلاف اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔
مدعی نے تفتیشی افسر کو تحریری درخواست جمع کرائی تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ رہائی کے بعد ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں صرف تفتیشی افسر کو ملزمان کی رہائی کی رپورٹ عدالت میں جمع کروانی ہوگی۔
واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فرحان غنی اور دیگر ملزمان کا جسمانی ریمانڈ 30 اگست تک منظور کیا تھا۔ یہ مقدمہ فیروزآباد پولیس اسٹیشن میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت درج کیا گیا تھا جس میں سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق، فرحان غنی نے مدعی کو زمین کھودنے اور کیبل بچھانے سے روکا، تشدد کا نشانہ بنایا اور دھمکیاں دیں۔
فرحان غنی نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ٹاؤن کمیٹی کی اجازت کے بغیر زمین کھودنا یا کیبل بچھانا غیر قانونی ہے۔ گزشتہ روز مدعی نے اپنی شکایت واپس لینے کی درخواست جمع کرائی تھی جس کے بعد عدالت نے ملزمان کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








