سنبل ملک، صوفی گجراتن، صبا شاہ، جیا راجپوت کے فحاشی کے مقابلے! سب سے آگے کون؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Sunbal Malik, Sufi Gujratan, Saba Shah, and Jia Rajpoot: Who Leads the Obscenity Race on Social Media?
ONLINE

پاکستان میں سوشل میڈیا نے تفریح اور معلومات کے بجائے اب ایک خطرناک رجحان کو جنم دے دیا ہے، جہاں کھلے عام فحاشی اور بے حیائی کو لائیو شوز اور ویڈیوز کی شکل میں پھیلایا جا رہا ہے۔

خاص طور پر ٹک ٹاک، لائیکی، انسٹاگرام اور یوٹیوب شارٹس جیسے پلیٹ فارمز پر یہ عمل اتنی تیزی سے بڑھ رہا ہے کہ اب یہ ایک مکمل کاروبار میں بدل چکا ہے۔

ان لائیو شوز میں سب سے زیادہ نمایاں نام سنبل ملک، صوفی گجراتن، صبا شاہ اور جیا راجپوت کے ہیں، جو اپنی شہرت اور مالی فائدے کی خاطر کھلے عام غیر اخلاقی گفتگو اور حرکات کو براہِ راست نشر کرتی ہیں۔

ان کی ویڈیوز اور سیشنز ہزاروں ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، جو بدلے میں گفٹس،کوائنز اور ڈالرز کی صورت میں انہیں انعام دیتے ہیں۔ اس طرح فحاشی کو ایک منظم تجارت میں ڈھال دیا گیا ہے۔

یہ صورتِ حال محض انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی سطح پر تباہ کن ہے۔

علیزے سحر کی وائرل ہونے والی نازیبا ویڈیو اسی سلسلے کی ایک مثال تھی، جس نے نوجوان نسل کو گہرے اخلاقی بحران میں مبتلا کر دیا۔ یہ ویڈیوز اور لائیو سیشنز ذہنی آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی اقدار کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ان پلیٹ فارمز پر صرف چند خواتین ہی نہیں بلکہ مرد حضرات بھی شریک ہیں۔ ڈاکٹر ایمان، تنظیم ہنجرہ، بلی شلی، شکیل مہر، سنزیلہ خان، عائزہ خان، نمرہ، سارا، ملنگ، سینوریٹا، شیبا، علی بھائی، مومی، ماہ نور، وسیم، حیدر شاہ اور دیگر کئی نام روزانہ کی بنیاد پر ایسے ہی سیشنز کا حصہ بنتے ہیں۔

یہ افراد اپنے بڑھتے ہوئے فالوورز کو برقرار رکھنے اور زیادہ سے زیادہ کمائی کے لالچ میں اخلاقیات کو بالائے طاق رکھ کر مواد پیش کرتے ہیں۔

سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے خلاف نہ تو ریاستی ادارے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا کمپنیوں کی انتظامیہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

والدین کی جانب سے بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے یہ رجحان مزید پروان چڑھ رہا ہے۔

اگر فوری طور پر اس فحاشی اور بے حیائی کے سیلاب کو نہ روکا گیا تو پاکستانی معاشرہ ایک ایسی دلدل میں دھنس جائے گا جہاں سے نکلنا تقریباً ناممکن ہو گا۔

وقت کی ضرورت ہے کہ ریاست، والدین اور سوشل میڈیا کے ماہرین ایک جامع حکمتِ عملی وضع کریں، جس میں قوانین پر سختی سے عملدرآمد، پلیٹ فارمز کی سخت نگرانی اور خاندانی سطح پر بچوں کی تربیت کو یقینی بنایا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کو اس اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھا جا سکے۔

Related Posts