غزہ کیلئے لَش کا منفرد احتجاج؛ شاپ، ویب سائٹ اور فیکٹریاں بند کرنے کا اعلان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

برطانوی بیوٹی چین لَش نے غزہ کی صورتحال کے تناظر میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے انسانی امداد روکنے کے خلاف احتجاجاً برطانیہ میں اپنی تمام دکانیں، ویب سائٹ اور فیکٹریاں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 3 ستمبر کو تمام اسٹورز بند رہیں گے اور دکانوں کی کھڑکیوں پر ایسے پوسٹرز لگائے جائیں گے جن پر لکھا ہوگا کہ غزہ کو بھوک سے مرنے سے روکیں ہم یکجہتی میں بند ہیں۔

لَش کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ دنیا بھر میں غزہ کے لاکھوں متاثرین کی حالت زار دیکھ کر دکھی ہے اور اس انسانی بحران کے خاتمے کے لیے برطانوی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر ہتھیاروں کی فروخت بند کی جائے اور ہلاکتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ لَش کو اس دن کاروباری نقصانات کا سامنا ہوگا مگر اس کے ساتھ ہی برطانوی حکومت کو بھی اس بندش سے ٹیکس کی آمدنی میں کمی ہوگی۔ اس احتجاج کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ برطانوی کاروبار غزہ کے لوگوں کے ساتھ ہے اور وہ اس وقت کی کاروباری معمولات کو روک کر اپنی حمایت کا اظہار کر رہا ہے۔

لَش کی جانب سے جاری کردہ اطلاعات کے مطابق ان کا واٹر میلون سلائس نامی خصوصی صابن جو غزہ کی مالی امداد کے لیے بنایا گیا ہے ان کی تاریخ کا سب سے زیادہ مقبول صابن بن چکا ہے۔ اس صابن سے حاصل ہونے والی آمدنی اب تک بچوں کی ذہنی صحت کی حمایت کے لیے استعمال ہوئی ہے جبکہ آئندہ اس کی مارکیٹنگ طبی امداد کے لیے کی جائے گی۔

صحافیوں کی ہلاکت اور عالمی ردعمل

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے غزہ میں صحافیوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں پانچ صحافیوں کے قتل کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹرز کے نمائندے شامل ہیں۔ اسرائیل نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد صرف حماس کو ختم کرنا ہے، نہ کہ عام شہریوں یا صحافیوں کو نقصان پہنچانا۔

غزہ میں صورتحال:

اسرائیلی حملوں کے بعد غزہ میں تباہی مچی ہوئی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد 63,600 سے تجاوز کر چکی ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران حماس نے جنوبی اسرائیل میں 1,200 افراد کو قتل کیا تھا اور 251 افراد کو یرغمال بنایا تھا۔ اس جنگ کے بعد غزہ کے زیادہ تر باشندے بے گھر ہو چکے ہیں اور وہاں قحط کی حالت بھی پیدا ہو چکی ہے۔

Related Posts