تشدد کا خوفناک واقعہ، متنازع مذہبی شخصیت کی لاش کو قبر سے نکال کر آگ لگا دی گئی

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ڈھاکہ ٹریبیون

بنگلہ دیش میں ایک مبینہ متتازعہ مذہبی خیالات کے حامل شخص کی لاش کو مشتعل افراد نے قبر سے کفن سمیت نکال کر سڑک پر پھینک کر آگ لگا دی۔ اس انتہائی اشتعال کے واقعے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف واقعات میں اس سے قبل بھی بنگلہ دیش میں کئی مذہبی مقامات اور زیارات کو نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ تاہم جمعہ کے روز پیش آنے والا واقعہ انتہائی خوفناک رہا۔ اس نوقعیت کا واقعہ ایک مسلم معاشرے میں عام طور پر توقع نہیں کیاجاتا ۔

یہ خوفناک واقعہ وسطی بنگلہ دیش کے ضلع راجباری میں سامنے آیا ہے۔ جہاں ملا نورالحق نامی ایک شخص کی قبر سے اس کی لاش کو کفن سمیت پہلے باہر نکالا گیا اور بعد ازاں ایک اطلاع کے مطابق ٹکڑے ٹکڑے کر کے نذر آتش کر دیا گیا۔

ملا نور الحق کون تھا؟ اس نے کیا کیا تھا؟

ملا نورالحق کے بارے میں رپورٹ کیا گیا ہے کہ اسے عام طور پر نورا پاگل کے نام سے لوگ جانتے تھے۔ کیونکہ وہ امام مہدی ہونے کا دعوی کرتا رہتا تھا۔ لیکن جب اس کا انتقال ہوا تو اس کی قبر کا پتھر خانہ کعبہ سے مشابہہ بنایا گیا۔

واضح رہے جب اس کی لاش کے ساتھ سرعام یہ واقعہ پیش آیا تو سڑک پر کئی درجن لوگ موجود تھے جو اس لاش کو جلتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ جبکہ ایک شخص جس نے سفید لباس پہن رکھا تھا ایک لمبی چھڑی سے آگ میں جلتی مبینہ لاش کو ہلا رہا تھا۔

ضلع راجباری کے پولیس سپرٹنڈنٹ قمر الاسلام نے خبر رساں ادارے سے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہم واقعے کے ذمہ داروں کی تلاش میں ہیں۔

ایک مقامی صحافی کے مطابق نورا پاگل نامی اس شخص کا انتقال پچھلے ماہ ہوا تھا۔ مگر اس کی تدفین مقامی قبرستان میں ہونے کے باوجود عمومی مسلمانوں کے انداز سے ہٹ کر کی گئی۔ جس پر لوگوں نے شکایت کی تو اس کے ساتھیوں نے مبینہ قابل اعتراض قبر کا ڈیزائن تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ مگر ابھی تبدیلی نہیں کی گئی تھی۔ تا آنکہ جمعہ کے روز بہت سے لوگ قبر کی مسماری کے لیے قبرستان پہنچ گئے۔

اس موقع پر قبر کے متولی اور حامیوں کی حملہ آوروں کے ساتھ جھڑپ ہوئی اور متولی کو ہلاک کر دیا گیا۔ جبکہ مزید پچاس افراد زخمی ہو گئے۔ جن میں سے تین کی حالت خطرے میں بتائی گئی ہے۔

عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے اس وقعے پر سخت افسوس ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو غیر انسانی واقعہ قرار دیا۔

Related Posts