پاکستانی ادارہ برائے خلائی و بالائی فضائی تحقیق (سپارکو) کے مطابق اتوار سات ستمبر کی رات کو پاکستان بھر میں ایک مکمل چاند گرہن، جسے عام طور پر “خونی چاند” بھی کہا جاتا ہے، دیکھا جا سکے گا۔ یہ گرہن رات 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگا، اپنے عروج پر رات 11 بج کر 57 منٹ پر پہنچے گا اور صبح 1 بج کر 55 منٹ پر اختتام پذیر ہوگا۔
سورج گرہن کے برعکس چاند گرہن کو ننگی آنکھ، دوربین یا ٹیلی اسکوپ سے دیکھنا بالکل محفوظ ہے۔ یہ پورا چاند گرہن تقریباً ساڑھے پانچ گھنٹے جاری رہے گا، جس میں سرخ رنگ کے مکمل مرحلے کا دورانیہ ایک گھنٹہ بائیس منٹ ہوگا۔ یہ منظر ایشیا، افریقہ اور یورپ کے بیشتر حصوں میں اور پاکستان بھر میں صاف موسم کی صورت میں واضح طور پر دکھائی دے گا۔
چونکہ یہ واقعہ چاند کے زمین کے قریب ترین فاصلے سے محض چند دن پہلے پیش آ رہا ہے، اس لیے چاند معمول سے کچھ بڑا بھی دکھائی دے گا۔
اسے بلڈ مون کیوں کہا جاتا ہے؟
اسے “خونی چاند” کیوں کہا جاتا ہے؟ سپارکو کے مطابق جب زمین سورج اور چاند کے درمیان آ جاتی ہے تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے۔ اس دوران سورج کی روشنی جب زمین کے ماحول سے گزرتی ہے تو اس کی نیلی اور سبز کرنیں چھن جاتی ہیں اور صرف سرخی مائل روشنی باقی رہ جاتی ہے، وہی کیفیت جو سورج غروب ہونے کے وقت آسمان کو سرخ کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چاند زمین کے سائے میں سرخی مائل نظر آتا ہے اور اسے “خونی چاند” کہا جاتا ہے۔
یہ 2025 کا دوسرا مکمل چاند گرہن ہوگا، جبکہ اگلا مارچ 2026 اور اگست 2026 میں دیکھا جا سکے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








