ٹائیگر شروف کی فلم باغی 4 میں ایکشن، رومانس اور نفسیاتی ڈرامے کو یکجا کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ اپنی ہی بھاری بھرکم توقعات تلے دب گئی۔
فلم کی کہانی رونّی (ٹائیگر شروف) کے گرد گھومتی ہے جو بحریہ کا افسر ہے اور حادثے کے بعد کوما سے جاگ کر صدمے میں جی رہا ہے۔
ابتدا میں ایک معمہ خیز اور دلچسپ ماحول بنتا ہے لیکن جلد ہی کہانی اچانک موڑ، غیر منطقی فیصلوں اور کارٹون جیسے تشدد میں بدل جاتی ہے۔ اسکرپٹ کا معیار پہلے حصے میں امید جگاتا ہے مگر دوسرے حصے میں یکسانیت اور بے ربطی غالب آ جاتی ہے۔
اداکاری کے لحاظ سے ٹائیگر شروف ایکشن اور جذباتی مناظر میں اپنی موجودگی قائم رکھتے ہیں مگر ڈائیلاگ کی تکرار انہیں محدود کر دیتی ہے۔
ہرناز سندھو (علیشہ) اپنی پہلی فلم میں صلاحیت تو دکھاتی ہیں لیکن کردار کی کمزوری انہیں آگے بڑھنے نہیں دیتی۔ سونم باجوا کو نظرانداز کیا گیا جبکہ سنجے دت اپنی شدت اور انداز سے فلم میں جان ڈالتے ہیں۔
ہدایت کاری میں اے ہرشا نے ایکشن اور پروڈکشن کا معیار تو برقرار رکھا مگر فلم کی طوالت (163 منٹ) اور حد سے زیادہ تشدد ناظرین کو بوجھل کر دیتا ہے۔
میوزک اور بیک گراؤنڈ اسکور شورش زیادہ اور اثر کم پیدا کرتے ہیں جبکہ گانے کہانی میں کھوئے کھوئے محسوس ہوتے ہیں۔
مجموعی طور پر نتیجہ یہ ہے کہ ’باغی 4‘ ایک کھویا ہوا موقع ہے۔ فلم محبت، دھوکے اور نفسیاتی گہرائی میں اترنے کے بجائے بے ربط مناظر اور ادھورا رومانس پر اٹک جاتی ہے۔
اگرچہ یہ باغی 2 اور 3 سے کچھ بہتر ہے، لیکن پہلی فلم جیسی شدت اور اثر دوبارہ پیدا نہیں کر سکی۔ صرف ڈائی ہارڈ فینز کے لیے ہی یہ دیکھنے کے قابل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








