اسرائیل نے قطر پر حملہ کیوں کیا؟ اہم حقائق اور پس پردہ محرکات سامنے آ گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں گزشتہ روزاچانک کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جن کے بارے میں بعد میں تصدیق ہوئی کہ یہ اسرائیل کی جانب سے کیے گئے میزائل حملے تھے۔ ان حملوں کا ہدف حماس کے اہم رہنما تھے جن میں مذاکراتی ٹیم کے ارکان بھی شامل تھے جو حالیہ دنوں میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے بات چیت کر رہے تھے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے براہِ راست قطر کو نشانہ بنایا ایک ایسا ملک جو برسوں سے اسرائیل اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔

حملہ کب اور کہاں ہوا؟

حملہ منگل کے روز دوپہر تین بجے (مقامی وقت) ہوا جب دوحہ کے مختلف علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور آسمان پر سیاہ دھواں بلند ہوتا دیکھا گیا۔ دھماکوں کی آواز شہر کے کئی حصوں میں سنی گئی۔

تقریباً ایک گھنٹے بعد اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ انہوں نے ویسٹ بے لاگون کے علاقے میں میزائل داغے جہاں حماس کے رہنماؤں کا مبینہ کمپاؤنڈ موجود تھا۔ یہ علاقہ سفارتخانوں، اسکولوں اور غیر ملکی باشندوں کی رہائش گاہوں سے بھرا ہوا ہے۔

حماس کا ردِ عمل

حماس کے سیاسی شعبے سے تعلق رکھنے والے رہنما سہیل الہندی نے الجزیرہ کو بتایا کہ حملے کا مقصد حماس کے ان رہنماؤں کو نشانہ بنانا تھا جو امریکہ کی طرف سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ ان کے مطابق خلیل الحیة اور خالد مشعل اس حملے کا نشانہ بننے والوں میں شامل تھے تاہم وہ بچ نکلے۔

تاہم حملے میں الحیة کے بیٹے ہُمّام اور ایک اعلیٰ معاون شہید ہو گئے جبکہ تین باڈی گارڈز سے تاحال رابطہ نہیں ہو سکا۔ الہندی نے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریک کی قیادت کا خون کسی بھی فلسطینی بچے کے خون کی مانند قیمتی ہے۔

جانی نقصان اور قطر کی تصدیق

قطری حکام کے مطابق حملے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہے جبکہ دیگر اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ قطر کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا کہ بم ڈسپوزل ٹیمیں اور ماہرین جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہے ہیں اور علاقے کو محفوظ بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔

اسرائیل کا مؤقف

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان جاری کیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ خالصتاً اسرائیلی فوج کا آزادانہ فیصلہ تھا جس کی پوری ذمہ داری اسرائیل خود لیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ حماس کی قیادت نے 7 اکتوبر کے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی اس لیے ان کو نشانہ بنانا جائز تھا۔

اسرائیلی حزبِ اختلاف کے رہنما یائر لاپید نے بھی اس کارروائی کو شاندار قرار دیتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو مبارکباد دی۔

حملے کا مقصد کیا تھا؟

اسرائیلی میڈیا اور دیگر بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق، اس کارروائی کا اصل مقصد حماس کے وہ اہم قائدین تھے جو اس وقت دوحہ میں موجود تھے۔ ان میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں۔

خلیل الحیة، حماس کے چیف مذاکرات کار

ظاہر جبارین، مالیاتی امور کے سربراہ اور قیادت کونسل کے رکن

خالد مشعل، سابق سیاسی سربراہ

محمد درویش، دوحہ میں مقیم پرانے رہنما

موسیٰ ابو مرزوق، قیادت کونسل کے سربراہ

عزت الرشق، رازی حماد، طاہر النونو دیگر مرکزی قائدین

اطلاعات کے مطابق، ان میں سے تمام افراد حملے میں محفوظ رہے۔

شہداء کی فہرست

حماس اور قطری حکام کے مطابق، مندرجہ ذیل افراد اس حملے میں شہید ہوئے:

ہمّام الحیة، خلیل الحیة کے صاحبزادے

جہاد لباد، خلیل الحیة کے دفتر کے ڈائریکٹر

عبداللہ عبد الوحید، محافظ

مؤمن حسونہ، محافظ

احمد المملوک، محافظ

بدر سعد محمد الحمیدی الدوسری – قطر کی داخلی سیکیورٹی فورس (لخویا) کے اہلکار

قطر کا شدید ردِعمل

قطر نے اس حملے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بیان میں کہا کہ یہ مجرمانہ کارروائی قطر کے شہریوں اور رہائشیوں کے تحفظ کے لیے خطرہ ہے اور ہم ایسے کسی بھی عمل کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے جو ہماری خودمختاری یا سیکیورٹی کو نقصان پہنچائے۔

قطر نے حملے کی مکمل تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور جلد مزید تفصیلات جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

خطے اور عالمی برادری کا ردِ عمل

اس حملے نے عالمی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے کہ سعودی عرب نے اسرائیل کے اقدام کو بے حد سنگین قرار دیا اور قطر سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

ترکی نے کہا کہ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل امن معاہدہ نہیں چاہتا بلکہ جنگ جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اسے بزدلانہ اور کھلی جارحیت قرار دیا۔

ایران اور پاکستان نے بھی حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔ پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ یہ حملہ خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسے قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

فرانس، برطانیہ، مصر، کویت، عراق، اردن، لبنان، مراکش، الجزائر، مالدیپ اور خلیج تعاون کونسل نے بھی اسرائیل کے اقدام کی مذمت کی۔

موجودہ صورتحال

قطر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ صورتحال اب قابو میں ہے اور متاثرہ علاقے کو محفوظ بنانے کے لیے کام جاری ہے۔ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں۔

قطر ایئرویز نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ ان کے پروازوں کی روانی متاثر نہیں ہوئی اور مسافروں کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہے۔

امریکی سفارتخانے نے اپنے عملے کے لیے ابتدائی طور پر شیلٹر ان پلیس ہدایت جاری کی تھی جسے کچھ ہی دیر بعد واپس لے لیا گیا۔

یہ حملہ ایک خطرناک پیش رفت ہے جو نہ صرف غزہ میں جاری جنگ بلکہ خطے کے سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔ اسرائیل کا قطر جیسے ثالث ملک پر حملہ اس بات کا اشارہ ہے کہ وہ اب ثالثی یا مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بننے کو بھی تیار ہے۔

Related Posts