سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے بحریہ ٹاؤن کراچی کو جاری کیا گیا عارضی این او سی منسوخ کر دیا ہے جو ستمبر 2022 میں فروخت اور تشہیر کے لیے جاری کیا گیا تھا۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کے بعد کیا گیا جو نومبر 2023 میں کیس نمبر 8758/2018 میں صادر کیے گئے تھے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے زمین کے مالکانہ حقوق کے دستاویزات جمع نہ کرانے اور 460 ارب روپے کی قسطیں 31 اگست 2026 تک ادا نہ کرنے کی وجہ سے این او سی برقرار رکھنا ممکن نہیں رہا۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا کہ ان قانونی خلاف ورزیوں کے باعث 16 ہزار 896 ایکڑ اراضی کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے اور اس طرح ایس بی سی اے کی جانب سے پہلے دیا گیا این او سی اپنی حیثیت کھو بیٹھا ہے۔

مزید کہا گیا کہ اگر این او سی برقرار رکھا جاتا تو یہ عوام کو گمراہ کرنے اور غیر قانونی اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہوتا۔
ایس بی سی اے کے بورڈ کی 20ویں میٹنگ میں، جو 3 ستمبر 2025 کو منعقد ہوئی، متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی کا این او سی فوری طور پر واپس لیا جائے۔
نوٹس میں واضح ہدایت دی گئی کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں کسی بھی قسم کی خرید و فروخت، بکنگ یا اشتہار بازی سے اجتناب کیا جائے۔
ایس بی سی اے نے یقین دہانی کرائی کہ موجودہ الاٹیوں کے حقوق سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق محفوظ رہیں گے اور ان کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








