امریکا کے شہر اورم، یوٹاہ میں قدامت پسند سیاسی رہنما اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک کے قتل کے بعد تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ایف بی آئی نے مشتبہ شخص کی تصاویر اور ایک ویڈیو جاری کر دی ہے جبکہ وہ رائفل بھی برآمد کر لی گئی ہے جسے اس واقعے میں استعمال کیا گیا۔
چارلی کرک بدھ کے روز یوٹاہ ویلی یونیورسٹی میں ایک پروگرام کے دوران اس وقت گولی کا نشانہ بنے جب وہ تقریباً تین ہزار شرکاء کے سامنے خطاب کر رہے تھے۔
فوٹیج کے مطابق حملہ آور عمارت کی چھت پر گیا اور وہاں سے فائرنگ کی۔ گولی سیدھی کرک کی گردن پر لگی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ واقعے کے بعد شرکاء میں بھگدڑ مچ گئی۔
ایف بی آئی نے عوام سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے قاتل کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
جاری کردہ تصاویر میں مشتبہ شخص کو سیاہ لباس، دھوپ کے چشمے اور کیپ پہنے دکھایا گیا ہے جس پر عقاب اور امریکی پرچم کی تصویر بنی ہوئی تھی۔
مزید فوٹیج میں مشتبہ شخص کو عمارت سے اترتے، سڑک عبور کرتے اور جنگل کی طرف جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی مقام کے قریب سے ایک طاقتور بولٹ ایکشن رائفل ملی ہے۔
حکام کے مطابق مشتبہ شخص کے ڈی این اے کے شواہد بھی ملے ہیں جبکہ سات ہزار سے زائد اطلاعات عوام نے فراہم کی ہیں اور اب تک دو سو سے زائد افراد سے تفتیش ہو چکی ہے۔ یوٹاہ کے گورنر اسپنسر کاکس نے کہا کہ عوامی تعاون کے بغیر یہ کیس حل نہیں ہو سکتا۔
چارلی کرک کی ہلاکت نے امریکی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ وہ صرف 31 برس کے تھے اور نوجوان ووٹرز میں ریپبلکن پارٹی کی مقبولیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے تھے۔
سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس قتل کو شرمناک سیاسی قتل قرار دیا اور اعلان کیا کہ کرک کو امریکی شہریوں کا سب سے بڑا سول اعزاز صدارتی تمغہ آزادی دیا جائے گا۔
چارلی کرک کی موت کے بعد نائب صدر جے ڈی وینس نے نیویارک کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے یوٹاہ کا رخ کیا اور مقتول کے اہل خانہ کے ساتھ اریزونا روانہ ہوئے۔ ٹرمپ نے کرک کی اہلیہ ایریکا فرانزوی سے بھی بات کی اور ان کے شدید دکھ پر اظہارِ افسوس کیا۔
چارلی کرک ایک نوجوان کارکن کے طور پر سیاست میں داخل ہوئے تھے اور محض ایک دہائی میں وہ قدامت پسند تحریک کے نمایاں رہنما بن گئے۔
ریپبلکن رہنماؤں نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیمی صلاحیتوں نے 2024 کے انتخابات اور حکومتی ڈھانچے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ واقعہ امریکا میں بڑھتی ہوئی سیاسی تشدد کی فضا کو اجاگر کرتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق 2021 کے بعد سے 300 سے زائد سیاسی تشدد کے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن میں سابق صدر ٹرمپ پر بھی دو قاتلانہ حملے شامل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








