سروائیکل کینسر کی ویکسینیشن: کیا یہ واقعی خطرناک اور اسلام دشمن قوتوں کی سازش ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

آج 15 ستمبر 2025 سے کراچی سے لیکر خیبر تک پورے پاکستان میں ایچ پی وی (جو سروائیکل کینسر کا سبب بنتا ہے) سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم شروع ہوچکی ہے اور 27 ستمبر تک جاری رہے گی۔ اس مہم کے تحت 9 سے 14 سال تک کی لڑکیوں کو ویکسین پلائی جا رہی ہے۔

ویکسینیشن کی یہ مہم شروع ہونے کے بعد سے حسب روایت سوشل میڈیا پر ملے جلے تبصروں اور سازشی تھیوریوں کا طوفان آگیا ہے، جس نے بچیوں کے والدین اور سرپرستوں کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

اس رپورٹ میں ہم ماہرین کی آرا کی روشنی میں جائزہ لیں گے کہ اس ویکسینیشن کی ضرورت اور مقصد کیا ہے، یہ کس حد تک ضروری، مفید اور غیر مضر ہے اور اس کے پیچھے کون ہے؟

آگے بڑھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سروائیکل کینسر کیا ہے؟ یہ کس کو لاحق ہوتا ہے؟ پاکستان میں اس کے کیسز کی شرح کیا ہے؟

سروائیکل کینسر کیا ہے؟

ماہرین کا اس حوالے سے جو کچھ کہنا ہے، اس کا خلاصہ آسان الفاظ میں یہ ہے کہ یہ عورت کے رحم (Uterus) میں لگنے والا کینسر ہے۔ یہ کینسر رحم کے نچلے حصے اور اندام نہانی (Vagina) سے جڑے ایک راستہ(Cervix) میں لگتا ہے۔ اس لیے اسے سروائیکل کینسر کہا جاتا ہے۔

سروکس کو رحم کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی راستے سے زچگی کے دوران بچہ باہر آتا ہے۔ مخصوص ایام کے دوران خون بھی اسی راستے سے آتا ہے۔

سروائیکل کینسر کیسے لگتا ہے؟

کینسر متعدی (infectious) مرض نہیں ہے۔ یعنی یہ زکام، کھانسی یا وائرل بخار کی طرح ایک شخص سے دوسرے شخص کو چھونے، کھانے پینے یا ساتھ رہنے سے منتقل نہیں ہوتا۔

مگر یہ سروائیکل کینسر سرطان کی ایک ایسی قسم ہے جو متعدی ہے اور پھیلتا ہے۔ اس کینسر کے پھیلاؤ کی کئی وجوہات ماہرین نے بتائی ہیں، جن میں سے ایک بڑی وجہ جنسی رابطہ بھی ہے، تاہم یہ ایڈز کی طرح زیادہ اور غیر محفوظ جنسی تعلقات کا ہی نتیجہ نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق یہ محض ایک بار کے جنسی رابطے سے بھی پھیل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کم عمری میں جنسی رابطے خواہ شادی سے ہوں، بھی اس کا ایک سبب ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مانع حمل دواؤں کے طویل استعمال سے بھی یہ مرض لگ سکتا ہے۔

ڈاکٹروں کے مطابق غیر معیاری یا پلاسٹک سے بنے سینیٹر پیڈز کے استعمال کی وجہ سے بھی سروائیکل کینسر لگ سکتا ہے۔

پاکستان میں سروائیکل کینسر کی شرح

ایک مطالعے کے مطابق سروائیکل کینسر پاکستانی خواتین کو ہونے والا تیسرا بڑا کینسر ہے جبکہ 15 سے 44 برس کی خواتین میں تیزی سے ہونے والا یہ سرطان دوسرے نمبر پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہر سال پاکستان میں لگ بھگ 5,008 خواتین کو یہ کینسر ہوتا ہے اور ان میں سے 3 ہزار 197 سے زیادہ خواتین اس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔

سازشی تھیوریز

رواں ماہ کے آغاز پر حکومت پاکستان کی جانب سے پورے ملک میں ایچ پی وی سے بچاؤ کی ویکسینیشن مہم شروع کرنے کا اعلان سامنے آتے ہی ہمیشہ کی طرح اس مہم کو بھی سازشی تھیوریوں کے ذریعے مشکوک ٹھہرانے کا سلسلہ زوروں پر ہے۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی مختلف سازشی تھیوریز میں سب سے زیادہ جو غلط فہمی پھیلائی جا رہی ہے، وہ یہ کہ اس سے بانجھ پن ہوتا ہے۔

جبکہ دوسرے نمپر پر یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ یہ مہم اسلام دشمن قوتوں بالخصوص امریکی ارب پتی بل گیٹس کے فنڈز سے مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی لانچ کی گئی ہے۔

تیسرا پروپیگنڈا یہ کیا جا رہا ہے کہ افریقی ممالک میں اس ویکسین کے نتیجے میں لاکھوں عورتیں بانجھ ہوگئی ہیں اور اس کے نتیجے میں بل گیٹس کے خلاف کیسز دائر کیے گئے ہیں۔

حقائق

سب سے پہلے ہم اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا یہ ویکسین بانجھ پن کا باعث بن سکتی ہے؟ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے واضح کیا جا چکا ہے کہ یہ ویکسین سروائیکل کینسر سے تحفظ دینے کے لیے بنائی گئی ہے اور اس کا زچگی یا تولیدی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا۔ یہ ویکسین دنیا بھر میں لاکھوں لڑکیوں کو دی جا چکی ہے اور اسے مکمل طور پر محفوظ ثابت کیا گیا ہے۔

دوسرا اعتراض بل گیٹس اس مہم کو فنڈ کر رہے ہیں۔ اس اعتراض کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ویکسین اقوام متحدہ، اس کے ذیلی اداروں عالمی ادارہ صحت اور بچوں کی صحت سے متعلق ادارے یونیسیف کی جانب سے پوری دنیا میں شروع کی گئی ہے اور وہی اس کو اپنے عالمی ڈونرز کی مدد سے فنڈ اور رن کر رہے ہیں۔

تیسرا اعتراض کہ افریقی میں لاکھوں عورتیں متاثر ہوگئی ہیں اور بل گیٹس کیخلاف مقدمات کیے گئے ہیں۔ یہ بھی جھوٹا پروپیگنڈا ہے، نہ ہی دعوے کرنے والوں کی جانب سے کوئی شواہد پیش کیے گئے ہیں اور نہ ہی تحقیق کے دوران ہمیں ان دعوؤں کے حق میں کوئی شواہد میسر آئے۔

کیا یہ ویکسین صرف پاکستان میں لانچ کی گئی ہے؟

ہرگز نہیں، چونکہ یہ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں ہو رہی ہے، اس لیے پوری دنیا میں بالخصوص ان ممالک میں جہاں کا ہیلتھ اسٹرکچر کمزور ہے، اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کے مالی اور تیکنیکی تعاون سے یہ ہم جاری ہے۔

ریسرچ کے مطابق پاکستان 150 واں ملک ہے، جہاں حال ہی میں یہ مہم شروع کی گئی ہے، جبکہ پاکستان سے پہلے 149 میں یہ مہم شروع کی جا چکی ہے۔

یونیسیف (عالمی ادارہ برائے اطفال) کے بیان کے مطابق ویکسین سعودی عرب اور قطر سمیت 144ممالک میں بچیوں کو لگائی جاتی ہے۔ اب پاکستان میں بھی یہ ویکسین 15 سے 27 ستمبر 2025 کی قومی ویکسینیشن مہم کے دوران پنجاب، سندھ، اسلام آباد اور کشمیر میں 9 سے 14 سال کی لڑکیوں کو لگائی جائے گی۔

یہ ویکیسن کتنی محفوظ ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین 70 فیصد خواتین کی اسکریننگ اور 90 فیصد مریضوں کا علاج یقینی بنانا ہے اور اس کے نتیجے میں خواتین ایچ پی وی سے محفوظ ہوکر مستقبل میں سرائیکل کینسر سے بچ سکتی ہیں۔

Related Posts