امریکا اور چین کے درمیان ٹک ٹاک کی لڑائی ایک سال سے زیادہ عرصہ جاری رہنے کے بعد آخرکار ختم ہوگئی۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ اور چین کے درمیان ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ٹک ٹاک امریکہ میں کام کرتا رہے گا۔ معاہدے کے تحت ٹک ٹاک کے امریکی اثاثے چینی کمپنی بائٹ ڈانس سے لے کر امریکی مالکان کو منتقل کر دیے جائیں گے، جس سے تقریباً ایک سال سے جاری تنازع ختم ہونے کی امید ہے۔
یہ معاہدہ اس مشہور سوشل میڈیا ایپ کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہے جس کے امریکہ میں 170 ملین صارفین ہیں۔ یہ معاہدہ دنیا کی پہلی اور دوسری بڑی معیشت کے درمیان مہینوں سے جاری مذاکرات میں ایک بڑی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے، جو ایک وسیع تجارتی جنگ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے تھے جس نے عالمی منڈیوں کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا تھا۔
ٹرمپ نے کہا: “ہمارے پاس ٹک ٹاک کے حوالے سے ایک معاہدہ ہے۔ ہمارے پاس بہت بڑی کمپنیاں ہیں جو اسے خریدنا چاہتی ہیں۔” تاہم انہوں نے مزید تفصیل نہیں بتائی۔ انہوں نے چین کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دونوں ممالک کے لیے بہتری کا باعث ہوگا اور اربوں ڈالر کی قدر محفوظ رہے گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا: “بچے اسے بہت چاہتے ہیں، والدین مجھے فون کر کے کہتے ہیں کہ وہ اسے اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے بچوں کے لیے چاہتے ہیں۔”
تاہم اس حوالے سے کسی بھی معاہدے کے لیے ریپبلکن کے زیرِ کنٹرول کانگریس کی منظوری ضروری ہو سکتی ہے، جس نے 2024 میں بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ٹک ٹاک کے اثاثے بیچنے کا تقاضا کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ خدشہ تھا کہ امریکی صارفین کا ڈیٹا چینی حکومت تک پہنچ سکتا ہے، جو امریکہ پر جاسوسی یا اثر و رسوخ کے مقاصد کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے بار بار اس قانون پر سختی سے عمل درآمد سے گریز کیا کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ یہ صارفین کو ناراض کرے گا اور سیاسی رابطوں کو متاثر کرے گا۔ اسی لیے انہوں نے تین بار ڈیڈ لائن میں توسیع کی۔ ٹرمپ نے یہ کریڈٹ بھی لیا کہ ٹک ٹاک نے انہیں گزشتہ برس دوبارہ صدر بننے میں مدد دی۔ ان کے ذاتی اکاؤنٹ کے 15 ملین فالوورز ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس نے گزشتہ ماہ سرکاری طور پر ایک ٹک ٹاک اکاؤنٹ لانچ کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








