سیاسی انتقام کا شاخسانہ؟ ٹرمپ انتظامیہ نے ٹیسلا کی ڈیڑھ لاکھ الیکٹرک کاروں پر پابندی کی تلوار لٹکا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

ٹیسلا کی کاریں، فائل فوٹو

سیاسی انتقام کا شاخسانہ یا کچھ اور، ٹرمپ انتظامیہ نے تیکنیکی خرابی کی آڑ میں ایلون مسک کی عالمی شہرت یافتہ الیکٹرک کار کمپنی ٹیسلا کو بڑا جھٹکا دے دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (NHTSA) نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اس نے تقریباً 1 لاکھ 74 ہزار ٹیسلا ماڈل وائی (2021 ماڈل) گاڑیوں کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ان گاڑیوں کے الیکٹرانک ڈور ہینڈلز کے ناکارہ ہونے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔

NHTSA کے مطابق ایسی رپورٹس ملی ہیں کہ بعض اوقات گاڑی کے بیرونی دروازے نہیں کھلتے، حتیٰ کہ اس وقت بھی جب والدین بچے کو گاڑی میں بٹھانے یا باہر نکالنے کے لیے دروازہ کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ ابتدائی تحقیق اس عمل کا پہلا مرحلہ ہے۔ اگر ایجنسی کو یقین ہو جائے کہ یہ مسئلہ حفاظت کے لیے سنگین خطرہ ہے تو وہ ان گاڑیوں کو واپس منگوانے (recall) کا مطالبہ کر سکتی ہے۔

NHTSA کے مطابق اسے نو ایسی شکایات ملی ہیں جن میں والدین 2021 ماڈل ٹیسلا وائی کے دروازے نہیں کھول سکے۔ ان واقعات میں والدین دوبارہ دروازہ کھولنے میں ناکام رہے اور چار بار والدین کو گاڑی میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے کھڑکی توڑنی پڑی۔

ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ ٹیسلا گاڑیوں میں اندر سے ہنگامی طور پر کھولنے کے لیے مینول ڈور ریلیز موجود ہوتا ہے، مگر بچے اسے نہ تو پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی استعمال کر سکتے ہیں، چاہے ڈرائیور کو اس کے بارے میں علم ہو۔

ابتدائی جائزے میں NHTSA نے بتایا کہ یہ مسئلہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب الیکٹرانک ڈور لاکس کو گاڑی سے ناکافی وولٹیج ملتی ہے۔ مرمت کی رسیدوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد زیادہ تر گاڑیوں میں لو وولٹیج بیٹری کو تبدیل کیا گیا، لیکن کسی مالک نے بیٹری وارننگ لائٹ کے ظاہر ہونے کی شکایت نہیں کی تھی، اس سے پہلے کہ ڈور ہینڈلز ناکارہ ہو جاتے۔

Related Posts