اوگرا نے ملک بھر کی ایل پی جی کمپنیوں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی دکانوں اور ڈیکینٹرز کو ایل پی جی کی فروخت بند کیا جائے اور ڈسٹری بیوٹرز کے انوینٹری کا مکمل آڈٹ کیا جائے۔ ساتھ ہی ناقص اور غیر محفوظ سلنڈرز کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔
اوگرا کے ترجمان کے مطابق یہ ہدایات پبلک نوٹس کے ذریعے جاری کی گئی ہیں، جس کا مقصد ملک بھر میں، خصوصاً پنجاب کے گنجان آباد شہری علاقوں میں ایل پی جی کی محفوظ ترسیل اور سیفٹی اسٹینڈرڈز کے نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں یہ تشویش بڑھ گئی ہے کہ لائسنس یافتہ فلنگ پلانٹس سے ناقص سلنڈرز کے ذریعے غیر قانونی ڈیکینٹرز کو گیس سپلائی کی جا رہی ہے۔
والدین خبردار! پولیو ویکسین سے انکار پر اب سندھ حکومت شناختی کارڈ اور پاسپورٹ ضبط کرے گی
اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے اوگرا لاہور ریجن کے ڈائریکٹر حماد پیرزادہ نے فیصل آباد ڈویژن میں ڈپٹی کمشنر فیصل آباد، کیپٹن ندیم ناصر اور ڈائریکٹر سول ڈیفنس پنجاب تسنیم علی خان کے ساتھ مل کر مشترکہ انفورسمنٹ ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ یہ ٹیمیں 29 ستمبر سے یکم اکتوبر 2025 تک فیصل آباد کے ایل پی جی پلانٹس پر انسپکشن کر رہی ہیں۔
فیصل آباد ایک اہم صنعتی اور تجارتی مرکز ہے، جہاں ایل پی جی کی کھپت بہت زیادہ ہے اور حفاظتی مسائل کی وجہ سے حکومت اور عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ انسپیکشن کے دوران ٹیم نے متعدد خلاف ورزیاں نوٹ کیں، جن میں غیر تربیت یافتہ فلنگ آپریٹرز، ناکارہ فائر فائٹنگ سسٹمز، غیر رجسٹرڈ ڈسٹری بیوٹرز کو گیس سپلائی، سیل انوائسز کی غیر موجودگی اور چند پلانٹس کی فلنگ بند کرنا شامل ہیں تاکہ اوگرا کی جانچ سے بچا جا سکے۔
اوگرا کے افسران نے فوری طور پر پلانٹس کی انتظامیہ کو حفاظتی تدابیر اپنانے اور ایس او پیز کے نفاذ کی ہدایات جاری کیں۔ خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے، جس میں بھاری جرمانے، مارکیٹنگ لائسنس کی معطلی یا منسوخی شامل ہیں، تاکہ ایل پی جی کی ترسیل میں شفافیت اور حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








