مظفرآباد میں ہفتہ کے روز وفاقی حکومت کی اعلیٰ سطح مذاکراتی کمیٹی اور آزاد جموں و کشمیر کی مشترکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ایک تاریخی معاہدہ طے پایا جس کا مقصد حالیہ کشیدگی کو ختم کرنا اور خطے میں امن بحال کرنا ہے۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اس معاہدے کی مکمل تفصیلات اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری کیں۔
اس اہم اجلاس میں حکومتی وفد کی نمائندگی اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف، وفاقی وزراء سردار محمد یوسف، احسن اقبال، سینیٹر رانا ثناء اللہ، قمر زمان کائرہ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیرمقام نے کی۔
آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے وزیر تعلیم دیوان علی چغتائی اور وزیر بلدیات فیصل راٹھور شریک ہوئے جبکہ عوامی ایکشن کمیٹی کی نمائندگی راجہ امجد، شوکت نواز میر اور انجم زمان اعوان نے کی۔
معاہدے کے نکات کے مطابق یکم اور دو اکتوبر کے جاں بحق افراد کے لواحقین کو وہی معاوضہ دیا جائے گا جو سیکورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کو ملتا ہے۔
گولی لگنے سے زخمی افراد کو دس لاکھ روپے دیے جائیں گے اور جاں بحق افراد کے ایک ایک خاندان کے رکن کو 20 دن کے اندر سرکاری ملازمت فراہم کی جائے گی۔
مزاکراتی وفد اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والے معاہدے کی تفصیلات pic.twitter.com/0BuJWSCqdf
— Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) October 4, 2025
تعلیمی اصلاحات کے تحت مظفرآباد اور پونچھ ڈویژن میں دو نئے تعلیمی بورڈ قائم کیے جائیں گے اور تینوں بورڈز کو وفاقی بورڈ اسلام آباد سے 30 دن کے اندر منسلک کر دیا جائے گا۔ تعلیمی اداروں میں داخلے اوپن میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔
منگلا ڈیم ریزنگ پروجیکٹ سے متاثرہ خاندانوں کی زمین 30 دن میں ریگولرائز کی جائے گی، جبکہ صحت کے شعبے میں ہر ضلعے کو ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشین فراہم کی جائے گی۔ صحت کارڈ فنڈز 15 دن میں جاری ہوں گے اور اسپتالوں میں آپریشن تھیٹر اور نرسریاں قائم کی جائیں گی۔
انتظامی اصلاحات میں آزاد کشمیر کابینہ کو زیادہ سے زیادہ 20 وزراء تک محدود کرنے، 20 سے زائد انتظامی سیکرٹریز نہ رکھنے، سول ڈیفنس کو ایس ڈی ایم اے میں ضم کرنے اور احتساب بیورو کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کے ان اراکین کی حیثیت اور فنڈز معطل رہیں گے جو آزاد کشمیر کی نشستوں کے علاوہ دیگر نشستوں سے منتخب ہوئے ہیں۔
ٹرانسپورٹ اور جائیداد سے متعلق پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے گی۔ جائیداد کی منتقلی پر ٹیکس پنجاب اور خیبرپختونخوا کی شرح کے مطابق ہوں گے۔ اس کے علاوہ گلگت بلتستان اور فاٹا ماڈل کے تحت ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی جائے گی۔
معاہدے کے تحت میرپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر کا شیڈول جاری کیا جائے گا اور 2019 میں آزاد کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہائیڈل پروجیکٹس کی آمدنی پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
پانی اور رہائش سے متعلق منصوبوں میں کشمیر کالونی ڈڈیال میں واٹر سپلائی اسکیم اور ٹرانسمیشن لائن شامل ہیں جبکہ مہاجرین کو منڈور کالونی ڈڈیال میں جائیداد کے حقوق دیے جائیں گے۔ دس اضلاع میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کے لیے فزیبلٹی اسٹڈیز بھی ہوں گی۔
راولپنڈی اور اسلام آباد میں حالیہ احتجاج کے دوران گرفتار کشمیری مظاہرین کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ معاہدے پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ایک مانیٹرنگ اور امپلیمنٹیشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو جلد باضابطہ طور پر نوٹیفائی کر دی جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








