پنجاب حکومت کے تاریخی فلڈ ریلیف پیکیج کیلئے کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

پنجاب حکومت کا اہم اعلان سامنے آیا ہے، فوٹو ملکی میڈیا

وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں صوبے بھر کے سیلاب متاثرہ خاندانوں، کسانوں اور کمیونٹیز کے لیے ایک تاریخی ریلیف پیکیج کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں 171 نکاتی ایجنڈا منظور کیا گیا، جس کے دوران حکومت نے مالی امداد، ٹیکس میں رعایت، اور نئی فلاحی اسکیموں کے اعلان کے ساتھ اس عزم کا اظہار کیا کہ کابینہ کا فرض ہے کہ وہ عوام کے دکھ درد میں ان کے ساتھ کھڑی رہے۔

سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف پیکیج
کابینہ کے منظور کردہ منصوبے کے مطابق وہ خاندان جن کے افراد جاں بحق ہوئے یا جنہیں جانی و مالی نقصان پہنچا، انہیں براہِ راست مالی امداد دی جائے گی:

سیلاب میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں کو 10 لاکھ روپے

مستقل معذوری والے متاثرین کو 5 لاکھ روپے

جزوی معذوری والے متاثرین کو 3 لاکھ روپے

مکانات کے نقصانات کی تلافی کے لیے:

مکمل طور پر تباہ شدہ پکے مکان کے مالکان کو 10 لاکھ روپے

جزوی نقصان والے پکے مکان کے لیے 3 لاکھ روپے

مکمل طور پر گرے ہوئے کچے مکان کے لیے 5 لاکھ روپے

جزوی طور پر متاثرہ کچے مکان کے لیے 1.5 لاکھ روپے

مویشیوں کے نقصان پر معاوضہ:

بڑے جانور (مثلاً گائے، بھینس وغیرہ) کے مرنے پر 5 لاکھ روپے

چھوٹے جانور (بکری، بھیڑ وغیرہ) کے مرنے پر 50 ہزار روپے۔

کسانوں کے لیے امداد اور ٹیکس میں رعایت
سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فصلوں کے نقصان پر فی ایکڑ 20 ہزار روپے تک امداد دی جائے گی، اگر ان کی فصل کا 25 فیصد یا اس سے زیادہ حصہ تباہ ہوا ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے 2 ہزار 855 دیہاتوں میں آبپاشی اور زرعی آمدن پر ٹیکس معاف کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہدایت کی کہ دوبارہ تباہی سے بچنے کے لیے دریا کے راستوں میں کسی قسم کی تعمیرات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ریسکیو اور امدادی کاموں کی تعریف
وزیراعلیٰ نے اعتراف کیا کہ پنجاب کی تاریخ میں اس قدر شدید سیلاب پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے وزراء، ڈپٹی کمشنرز، پولیس، پی ڈی ایم اے، ریسکیو ٹیموں اور سول ڈیفنس کے رضاکاروں کی خدمات کو سراہا۔ ان کے مطابق “پوری کی پوری بستیاں، جن میں نارووال اور مظفرگڑھ جیسے شہر بھی شامل ہیں، سیلاب سے بری طرح متاثر ہوئے۔”

سول ڈیفنس کے رضاکاروں کی خدمات کے اعتراف میں ان کی تنخواہوں میں 15 ہزار روپے کا اضافہ کیا جائے گا۔

امداد کیسے تقسیم ہوگی اور اپلائی کا کیا طریقہ ہوگا؟

صوبائی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ریلیف چیکس کی تقسیم 17 اکتوبر سے شروع ہوگی، تاہم اس کا طریقہ کیا ہوگا اس حوالے سے کوئی تفصیل تاحال نہیں بتائی گئی ہے۔ اتنا کہا گیا ہے کہ براہِ راست مالی امداد دی جائے گی۔

وزیرِ اعلیٰ پنجاب فلڈ ریلیف کارڈ 2025 کے لیے رجسٹریشن کا طریقہ
تاہم صوبائی حکومت نے ریلیف کارڈ میں رجسٹر ہونے کیلئے ایک سادہ اور شفاف طریق کار بنایا ہے، جس کے مطابق سروے ٹیموں کے دورے ہوں گے، حکومتی اہلکار متاثرہ علاقوں میں جا کر خاندانوں اور نقصانات کی تفصیلات جمع کریں گے۔

 حاصل شدہ ڈیٹا نادرا اور مقامی انتظامیہ کے ذریعے جانچا جائے گا۔

 مستحق خاندانوں کو فلڈ ریلیف کارڈ فراہم کیا جائے گا۔

 متاثرہ خاندان بینکوں، اے ٹی ایمز یا پی او ایس مراکز سے نقد رقم حاصل کر سکیں گے۔

گھروں یا مویشیوں کے بڑے نقصانات کی صورت میں تفصیلی تصدیق کے بعد رقم جاری کی جائے گی۔

Related Posts