جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا! غزہ میں خونریزی کے خاتمے پر عوام کا جشن

تازہ ترین

تازہ ترین

Celebrations erupt in Gaza, Israel on news of deal to end two-year war
ONLINE

غزہ اور اسرائیل میں دو سالہ خونریز جنگ کے خاتمے کی خبر نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی، جمعرات کو جیسے ہی اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کی اطلاع ملی، دونوں علاقوں میں جشن کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

غزہ کی تباہ حال گلیوں میں نوجوان سڑکوں پر نکل آئے اور ایک دوسرے کو مبارکباد دینے لگے جبکہ اسرائیل میں ان خاندانوں نے خوشی کے آنسو بہائے جن کے عزیز دو برس قبل حماس کے حملے کے دوران قید کر لیے گئے تھے۔

جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس سے تعلق رکھنے والے عبدالمجید عبدربہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اللہ کا شکر ہے کہ آخر کار خونریزی ختم ہوئی۔ یہ صرف میری نہیں، بلکہ پورے غزہ، تمام عرب دنیا اور انسانیت کی جیت ہے۔

اسرائیل کے شہر تل ابیب میں ہوسٹیجز اسکوائر پر بھی جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں قیدیوں کے اہلِ خانہ دو سال سے اپنے پیاروں کی واپسی کے لیے سراپا احتجاج تھے۔ اب ان کی امیدیں اس معاہدے کے بعد حقیقت میں بدلتی نظر آ رہی ہیں۔

بدھ کے روز اسرائیل اور حماس کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکاتی امن فریم ورک کے ابتدائی مرحلے پر اتفاق ہوا جس کے تحت جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی عمل میں آئے گی۔ اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

 

غزہ میں نوجوانوں کے گروہ سڑکوں پر خوشی سے نعرے لگاتے اور ایک دوسرے کو گلے ملتے دکھائی دیے۔ کئی مقامات پر لوگوں نے اللہ اکبر کے نعرے لگائے اور امید ظاہر کی کہ اب وہ اپنے تباہ شدہ گھروں کو دوبارہ آباد کر سکیں گے۔

غزہ کے ایک تاجر، تمر البری، جو جنگ کے دوران بے گھر ہو گئے تھے، نے بتایا، میں ہنس بھی رہا ہوں اور رو بھی رہا ہوں۔ یقین نہیں آتا کہ ہم زندہ بچ گئے۔ اب ہم اپنے شہروں اور گھروں کو دوبارہ دیکھنے کے منتظر ہیں۔‘‘

کچھ شہریوں نے محتاط ردعمل ظاہر کیا کیونکہ اسرائیلی افواج ابھی بھی غزہ کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں۔ 58 سالہ زکیہ رزق نے بتایا، ہمارا گھر سب سے پہلے تباہ ہوا تھا، اگرچہ جنگ ختم ہو رہی ہے مگر ہم ابھی بھی خیموں میں رہنے پر مجبور ہوں گے، شاید کئی سال لگ جائیں جب تک غزہ دوبارہ تعمیر نہ ہو جائے۔

حماس کے زیرِ انتظام غزہ حکومت کے میڈیا دفتر نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ابھی اپنے علاقوں میں واپس نہ جائیں جب تک معاہدے کی مکمل تفصیلات جاری نہیں ہوتیں اور اسرائیلی افواج ان علاقوں سے مکمل طور پر نہیں نکل جاتیں۔

یہ معاہدہ اگر قائم رہتا ہے تو یہ نہ صرف دو برسوں کی تباہ کن جنگ کا خاتمہ ثابت ہوگا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی نئی امید بھی جگائے گا۔

Related Posts