سوات سے تعلق رکھنے والی پاکستان کی کم عمر ترین تائیکوانڈو کھلاڑی عائشہ ایاز نے بین الاقوامی سطح پر اپنی شاندار کارکردگی سے ملک کا نام روشن کر دیا ہے۔
دبئی، بنکاک اور دیگر کئی عالمی مقابلوں میں تمغے جیت کر انہوں نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک متاثر کن مثال قائم کی ہے۔
عائشہ ایاز نے اپنی تربیت کا آغاز بچپن میں اپنے والد کی زیرِ نگرانی کیا جو خود ایک ماہر تائیکوانڈو کوچ ہیں جبکہ ان کی والدہ بھی سابق قومی چیمپئن رہ چکی ہیں۔
والدین کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کے باعث عائشہ نے نہایت کم عمری میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔
عائشہ ایاز کی جدوجہد، لگن اور نظم و ضبط نے انہیں نہ صرف کھیلوں کی دنیا میں ایک نمایاں مقام دیا ہے بلکہ وہ پاکستانی لڑکیوں کے لیے حوصلے اور اعتماد کی علامت بن چکی ہیں۔ ان کی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں تو پاکستان کے نوجوان عالمی سطح پر کسی سے کم نہیں۔
بعض ذرائع کے مطابق عائشہ ایاز کے انڈونیشیا میں منعقدہ ایک چیمپئن شپ میں سونے اور چاندی کے تمغے جیتنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ان خبروں کی تاحال کسی مستند ادارے یا سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








