اسٹیٹ بینک کا بڑا مالیاتی آپریشن، 3 ہزار 258 ارب روپے مارکیٹ میں جھونک دیے گئے

تازہ ترین

تازہ ترین

اسٹیٹ بینک، فوٹو پاکستان ٹائمز

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے منی مارکیٹ میں بڑی مداخلت کرتے ہوئے اوپن مارکیٹ آپریشن کے تحت 3 ہزار 258 ارب روپے سے زائد کی رقوم شامل کر دی ہیں۔
بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق 7 روزہ اور 14 روزہ ریورس ریپو ٹینورز کے لیے مجموعی طور پر 3 ہزار 258 ارب روپے سے زائد کی بولیاں موصول ہوئیں، جن میں سے تقریباً تمام یعنی 3 ہزار 258 ارب 50 کروڑ روپے منظور کر لیے گئے۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام لیکویڈیٹی برقرار رکھنے اور مارکیٹ کے استحکام کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

لیکویڈیٹی (Liquidity) سرمایے کی روانی یا دستیابی کو کہتے ہیں، یعنی کسی بینک، کمپنی یا مالیاتی نظام میں نقد رقم (Cash) یا آسانی سے نقد بننے والے اثاثوں کی مقدار کتنی ہے۔

اگر کسی بینک یا مارکیٹ میں لیکویڈیٹی زیادہ ہے، تو مطلب ہے کہ وہاں پیسے کی کمی نہیں، قرض، سرمایہ کاری یا کاروباری لین دین آسانی سے ہو سکتا ہے۔
لیکن اگر لیکویڈیٹی کم ہے، تو مطلب ہے کہ پیسہ گردش میں کم ہے، قرض لینا مشکل، شرحِ سود بڑھنے کا امکان، اور معیشت پر دباؤ پیدا ہوتا ہے۔

لیکویڈیٹی برقرار رہنے سے اس سے مارکیٹ میں نقدی کی فراہمی بڑھ جاتی ہے، بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے زیادہ رقم آ جاتی ہے، کاروباری سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں اور شرحِ سود عموماً نیچے آ جاتی ہے۔

Related Posts