رجب بٹ کا وطن واپسی کا اعلان! الزامات پر فاطمہ خان کیخلاف مقدمے کا عندیہ

تازہ ترین

تازہ ترین

Rajab Butt to file defamation case against TikToker Fatima Khan over harassment claims
ONLINE

اسلام آباد: معروف یوٹیوبر رجب بٹ نے ٹک ٹاکر فاطمہ خان کی جانب سے لگائے گئے ہراسانی اور دھوکہ دہی کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

رجب بٹ نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ وہ فاطمہ خان کے مسلسل جھوٹے الزامات سے تنگ آ چکے ہیں اور اب قانونی کارروائی کے ذریعے انصاف حاصل کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فاطمہ خان کے الزامات بدنیتی پر مبنی ہیں اور ان کے پیچھے کوئی ذاتی مفاد کارفرما ہے۔

یوٹیوبر نے مزید کہا کہ ان کی اہلیہ ایمان ان پر مکمل اعتماد رکھتی ہیں اور یہ معاملہ وہ اپنے گھرانے میں سکون اور عزت کے ساتھ حل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں رجب بٹ نے وضاحت کی کہ وہ کبھی فاطمہ خان سے رومانوی تعلقات میں نہیں رہے اور نہ ہی انہیں قیمتی تحائف دیے۔ انہوں نے فاطمہ خان کی دماغی حالت پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات تضادات سے بھرپور ہیں۔

رجب بٹ نے اپنے خلاف لگائے گئے توہینِ مذہب کے الزامات کو بھی پروپیگنڈا قرار دیا اور انکشاف کیا کہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے کے بعد کچھ عرصے کے لیے ملک چھوڑنا پڑا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ جلد پاکستان واپس آئیں گے کیونکہ ان کا دل ہمیشہ اپنے وطن کے ساتھ ہے۔

ذرائع کے مطابق رجب بٹ کے خلاف نیشنل کرائم اینڈ سائبر انویسٹی گیشن ایجنسی نے غیر قانونی جوا ایپس کی تشہیر پر مقدمہ درج کر رکھا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ان ایپس کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر ان کی تشہیر کرتے رہے ہیں۔

یہ مقدمہ الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت درج کیا گیا ہے کیونکہ رجب بٹ انکوائری کے لیے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب رجب بٹ قانونی تنازعات کا سامنا کر رہے ہوں۔ اس سے قبل بھی ان پر ایک پرفیوم 295 کے نام سے متنازعہ تشہیر اور غیر قانونی اسلحہ و شیر کے بچے کی ملکیت کے مقدمات درج ہو چکے ہیں۔

Related Posts