برطانیہ میں گزشتہ ایک سال کے دوران مجرمانہ گروہوں اور مخالف ممالک کی طرف سے بڑے پیمانے پر سائبر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی قومی سائبر سیکیورٹی ایجنسی نے یہ اعلان کیا ہے جو حالیہ دنوں میں جاگر لینڈ روور جیسی بڑی کمپنیوں سے لے کر مارکس اینڈ اسپنسر جیسی ریٹیل چینز تک متعدد اہم واقعات کی روشنی میں سامنے آیا ہے۔
برطانیہ کی نیشنل سائبر سیکیورٹی سنٹر (این سی ایس سی)، جو جی سی ایچ کیو کی جانب سے چلائی جاتی ہے نے بتایا کہ اگست تک کے 12 ماہ میں اسے 429 سائبر واقعات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے تقریباً نصف کو قومی سطح پر اہم قرار دیا گیا، یعنی ہفتے میں اوسطاً چار ایسے حملے درپیش آئے جن پر فوری ردعمل دینا پڑا۔
ان میں سے 18 واقعات کو انتہائی سنگین درجہ دیا گیا جن کا مرکزی حکومت، بنیادی سہولیات یا برطانوی معیشت پر براہ راست برا اثر پڑا۔ ایجنسی کے مطابق یہ تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 50 فیصد زیادہ ہے۔
این سی ایس سی کے سربراہ رچرڈ ہورن نے منگل کو اپنی تقریر میں یہ اعداد و شمار پیش کیے جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ برطانیہ کی کاروباری دنیا کو سائبر خطرات کی شدت حالیہ خبروں میں آنے والے واقعات سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ریٹیل، مینوفیکچرنگ اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف شعبوں کی مشہور کمپنیوں پر حملے ہوئے لیکن یہ صرف وہی واقعات ہیں جو سرخیوں میں آئے۔
سائبر حملوں کی تفصیلات؛
جاگر لینڈ روور پر حملہ؛ اگست میں اس کمپنی پر ایک بڑا سائبر حملہ ہوا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کی پیداواریں بند ہو گئیں۔ اس نقصان کا تخمینہ کئی سو ملین ڈالر لگایا جا رہا ہے جو سپلائی چین پر بھی اثر انداز ہوا اور ہزاروں نوکریوں کو خطرے میں ڈال دیا۔ برطانوی حکومت نے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے 1.5 بلین پاؤنڈ (تقریباً 2 بلین ڈالر) کی ایمرجنسی قرض کی ضمانت دی تاکہ کمپنی اپنے سپلائرز کو ادائیگیاں دے سکے۔
ایئر لائن سسٹم پر حملہ؛ ستمبر میں یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں، بشمول لندن کے ہیٹھرو پر چیک ان اور بورڈنگ سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سے مسافروں کی دستی جانچ پڑتال کرنی پڑی جس کی وجہ سے تاخیر اور کینسلیشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
مارکس اینڈ اسپنسر اور کوآپ پر اثرات؛ اپریل میں مارکس اینڈ اسپنسر پر ہونے والے حملے سے اسے تقریباً 300 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔ اسی طرح، کوآپ نے سال کے شروع میں ہونے والے حملے سے 206 ملین پاؤنڈ کی آمدنی میں کمی کا تخمینہ لگایا۔
قومی سلامتی کے بڑھتے خطرات
برطانیہ کی قومی سلامتی کی صورتحال پر سوالات اٹھ رہے ہیں خاص طور پر چین سے جاسوسی کے ایک مقدمے کی ناکامی کے بعد، جہاں دو افراد پر الزام تھا کہ وہ چین کی طرف سے جاسوسی کر رہے تھے۔ ہورن نے پہلے ہی چین کو برطانیہ کی سائبر سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا تھا۔
ایم آئی فائیو جو ملک کی اندرونی سلامتی کا ادارہ ہے نے سیاستدانوں اور ان کے عملے کو خبردار کیا کہ چین، روس اور ایران کے جاسوس انہیں نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ برطانوی جمہوریت کو کمزور کیا جائے۔
ایم آئی فائیو کے مطابق برطانیہ روس، چین اور ایران کی ریاستوں کے عناصر کی طرف سے طویل مدتی حکمت عملی پر مبنی مداخلت اور جاسوسی کا نشانہ ہے جو مختلف طریقوں سے اپنے معاشی اور حکمت عملی کے مفادات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور ہماری جمہوری اداروں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
یہ رجحان کاروباروں اور حکومت دونوں کو سائبر تحفظ کی مزید مضبوطی کی طرف مائل کر رہا ہے، کیونکہ حملے نہ صرف مالی نقصان کا باعث بن رہے ہیں بلکہ ملکی سلامتی کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








