پاکستان کی پہلی ٹرانس جینڈر ڈاکٹر سارہ گل کو پی ایم ڈی سی (پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل) سے رجسٹری اور لائسنس ملنے میں تاخیر کا سامنا ہے کیونکہ پی ایم ڈی سی اور ایک پرائیویٹ یونیورسٹی کے درمیان تنازعہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے ڈاکٹر سارہ گل کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے پی ایم ڈی سی اور دیگر متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے ہیں اور ان سے 7 نومبر تک جواب طلب کیا ہے۔
درخواست گزار کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر سارہ گل نے 2021 میں جناح میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج (JMDC) سے ایم بی بی ایس مکمل کیا تھا تاہم اب یہ کالج سہیل یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے۔
سہیل یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ پہلے یہ یونیورسٹی یونیورسٹی آف کراچی سے منسلک تھی، مگر اب یہ ایک خودمختار یونیورسٹی بن چکی ہے اور اس وجہ سے پی ایم ڈی سی کے پورٹل تک اس کی رسائی نہیں ہے۔
پی ایم ڈی سی کے مطابق، طلبہ کے ریکارڈ اپ ڈیٹ کرنا یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے لیکن دونوں اداروں کے درمیان ذمہ داری کے تنازع کی وجہ سے ڈاکٹر سارہ گل کا لائسنس ابھی تک جاری نہیں کیا جا سکا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








