سوات کے علاقے مٹہ میں انسداد پولیو مہم کے دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک لیویز اہلکار شہید ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق حملہ اُس وقت پیش آیا جب پولیو ٹیم بچوں کو قطرے پلانے میں مصروف تھی۔
فائرنگ کے نتیجے میں لیویز اہلکار یاسین موقع پر ہی شہید ہوگئے جبکہ پولیو ٹیم کے دیگر ارکان محفوظ رہے۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کر دی ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہید اہلکار کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ انسداد پولیو ٹیموں پر حملے قومی خدمت کے خلاف بزدلانہ کارروائیاں ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بلوچستان کے ضلع نوشکی کے علاقے کلی محمد حسنی میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ٹیم پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار شہید ہوا تھا۔
بلوچستان حکومت کے ترجمان نے اُس موقع پر کہا تھا کہ پولیو مہم ایک قومی فریضہ ہے اور اس میں شریک ٹیموں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں انسداد پولیو مہم مئی میں شروع کی گئی تھی جس کے دوران لاکھوں بچوں کو معذوری سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
پولیس کے مطابق شہید لیویز اہلکار کی لاش اسپتال منتقل کر دی گئی ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








