مسابقتی کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے ان کمپنیوں کے خلاف ملک گیر کارروائی کا آغاز کیا ہے جو غیر معیاری گورا کرنے والی کریمیں فروخت اور مارکیٹ کر رہی ہیں، جن میں پارے کی مقدار منظور شدہ حد سے زیادہ پائی گئی ہے۔
ایک سرکاری بیان کے مطابق سی سی پی کے “آفس آف فیئر ٹریڈ اینڈ مارکیٹ انٹیلیجنس یونٹ” کی ابتدائی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ بازاروں اور آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت ہونے والے کئی مشہور برانڈز کی کریموں میں خطرناک حد تک زیادہ پارہ موجود ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان مصنوعات کو غلط طور پر محفوظ اور مؤثر قرار دے کر بیچا جا رہا ہے، جبکہ اجزاء کی فہرست میں پارے کی موجودگی کا ذکر تک نہیں کیا جاتا۔
پارہ ایک زہریلا کیمیکل ہے جو دماغی امراض، جلد کی بیماریوں اور گردوں کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتا ہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک میں اس کا کاسمیٹکس میں استعمال مکمل طور پر ممنوع ہے۔
سی سی پی کے مطابق پاکستان میں فروخت ہونے والی کئی گورا کرنے والی کریمیں، جنہیں “فیئرنیس”، “گلو” اور “لائٹننگ” جیسے دعووں کے ساتھ مارکیٹ کیا جاتا ہے، ان میں پارے کی ممنوعہ مقدار شامل پائی گئی ہے۔
2010 کے “مسابقتی ایکٹ” کی شق 10 کے تحت جھوٹی یا گمراہ کن تشہیر اور مارکیٹنگ پر مکمل پابندی ہے اور اس کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 7 کروڑ 50 لاکھ روپے تک جرمانہ یا سالانہ آمدنی کے 10 فیصد تک کی سزا عائد کی جا سکتی ہے۔
کمیشن نے ان کمپنیوں کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے جو ایسی نقصان دہ مصنوعات کی فروخت یا تشہیر میں ملوث ہیں۔ سی سی پی کے مطابق یہ عمل نہ صرف عوامی صحت کے لیے خطرہ ہے بلکہ دیانت دار کاروباری اداروں کے ساتھ غیر منصفانہ مقابلے کا باعث بھی بنتا ہے۔
سی سی پی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسی کریمیں استعمال کرنے سے گریز کریں جن میں پارہ موجود ہونے کا شک ہو، اور گمراہ کن اشتہارات یا غیر محفوظ مصنوعات کے بارے میں کمیشن کے آن لائن شکایتی پورٹل پر ثبوت کے ساتھ اطلاع دیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








