ملک بھر میں کل احتجاج، مکمل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان، کشیدگی کا خدشہ، عوام میں تشویش کی لہر

تازہ ترین

تازہ ترین

TLP strike call backfires as traders, clerics, civil society reject shutdown
ONLINE

لاہور: تنظیماتِ اہل سنت نے مریدکے میں ٹی ایل پی کیخلاف کریک ڈاؤن کے خلاف 17 اکتوبر بروز جمعہ ملک گیر احتجاج اور مکمل پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ سانحہ مریدکے پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین دن اور اہلسنت کی نسل کشی کے مترادف ہے۔

حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس سانحے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کے لیے فوری کمیشن تشکیل دیا جائے اور تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات شروع کیے جائیں۔

May be an image of one or more people and text

اعلامیہ کے مطابق اہل سنت کی مساجد، مدارس، خانقاہوں اور گھروں پر ہونے والے چھاپے فوراً بند کیے جائیں، گرفتار قائدین و کارکنان کو فوری رہا کیا جائے جبکہ سانحہ مریدکے میں مرنے والوں کی میتیں ورثاء کے حوالے کی جائیں۔

زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملک بھر کی مساجد میں 17 اکتوبر کو نمازِ جمعہ کے دوران سانحہ مریدکے کے خلاف مذمتی قراردادیں منظور کی جائیں گی۔

تنظیماتِ اہل سنت کے مشترکہ اجلاس میں طالبان عبوری حکومت کے بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کو اسلام اور مسلمانوں سے غداری قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی گئی جبکہ افغانستان سے ہونے والی مسلسل دراندازی کو پاکستان کی خودمختاری پر حملہ قرار دیا گیا۔ اجلاس میں وطن کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

اس موقع پر بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر بریلی شریف میں مودی حکومت کی جارحیت اور ممتاز عالمِ دین مفتی توقیر رضا قادری رضوی کی گرفتاری کی بھی شدید مذمت کی گئی۔ اجلاس میں غزہ میں قیامِ امن کو خوش آئند قرار دیا گیا۔

پیر آف مانکی شریف پیرزادہ محمد امین قادری کی صدارت میں کئی گھنٹے طویل اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر کی دینی و سیاسی قیادت شریک ہوئی جن میں ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، صاحبزادہ حامد رضا، سید حامد سعید کاظمی، پیر عبدالخالق القادری، انجینئر ثروت اعجاز قادری، خالد سلطان قادری، مفتی اسامہ حنیف قادری، میاں جلیل احمد شرقپوری، پیر نظام الدین سیالوی، شاداب رضا نقشبندی، قاری زوار بہادر، بلال سلیم قادری، میر آصف اکبر قادری، میاں خالد حبیب الٰہی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، حافظ حامد رضا سیالکوٹی، قیوم ماگرے، مفتی محمد رفیق نقشبندی، علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی، مفتی عمران حنفی، مفتی عمران الحسن فاروقی، احسان الحق صدیقی، مولانا حامد رضا چشتی، سید صفدر شاہ گیلانی، علامہ مجاہد عبدالرسول خان، محمد علی نقشبندی، سید احسان احمد گیلانی، پیر معاذالمصطفیٰ قادری، سید واجد گیلانی، پیر ذوالفقار مصطفیٰ ہاشمی، علامہ نعیم جاوید نوری، علامہ ممتاز احمد ربانی اور صاحبزادہ ریاض احمد اویسی شامل تھے۔

تنظیماتِ اہل سنت نے حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان مصالحت اور پُرامن حل تلاش کرنا ہے۔

 

اس کمیٹی میں ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر، ڈاکٹر راغب حسین نعیمی، صاحبزادہ حامد رضا، پیر عبدالخالق القادری، انجینئر ثروت اعجاز قادری، حافظ حامد رضا سیالکوٹی، خواجہ غلام قطب الدین، پیر خالد سلطان قادری اور پیر نظام الدین سیالوی شامل ہیں، جبکہ پیرزادہ محمد امین قادری آف مانکی شریف کمیٹی کے کوآرڈینیٹر ہوں گے۔

مزید یہ طے پایا کہ تنظیمات اہل سنت، مدارسِ اہل سنت اور مساجدِ اہل سنت کا سربراہی اجلاس 22 اکتوبر کو فیصل آباد میں منعقد کیا جائے گا جس میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

تنظیماتِ اہلسنت نے مورخہ 17 اکتوبر بروز جمعہ کو ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے مکمل پہیہ جام ہڑتال کا عندیہ دیا ہے جس کی وجہ سے عوام میںتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔

Related Posts