کراچی کے عوام کیلئے بڑی خوشخبری! دو ماہ بعد کے الیکٹرک سے چھٹکارہ، بجلی کیسے ملے گی؟

تازہ ترین

تازہ ترین

Karachi consumers can choose their own power supplier from 2026, NA told
FILE PHOTO

اسلام آباد: قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ حکومت 2026 سے ملک میں مسابقتی بجلی مارکیٹ متعارف کرانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جس کے تحت کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین اپنی مرضی سے بجلی فراہم کرنے والی کمپنی کا انتخاب کر سکیں گے۔

بدھ کے روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی (پاور) کا اجلاس چیئرمین ایم این اے محمد ادریس کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایم این اے شاہدہ رحمانی کی جانب سے پیش کردہ ملٹی وینڈر الیکٹرک ڈسٹری بیوشن بل 2025پر غور کیا گیا۔

کمیٹی نے بل پر حتمی غور آئندہ فروری 2026 تک مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس پر مزید مشاورت کی جا سکے۔

اجلاس کے دوران شاہدہ رحمانی نے کراچی میں بجلی کے دیرینہ مسائل کی نشاندہی کی اور کہا کہ کے الیکٹرک کی کارکردگی اور مالی نقصانات نے شہریوں کو مشکلات میں مبتلا کر رکھا ہے۔

پاور ڈویژن کے سیکریٹری ڈاکٹر فخر عالم عرفان نے بتایا کہ جنوری 2026 سے کراچی اور دیگر شہروں کے صارفین اپنی پسند کی کسی بھی بجلی کمپنی سے بجلی خرید سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں 200 میگا واٹ بجلی بلک پرچیز کے لیے دستیاب ہوگی، جبکہ ایک میگا واٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو سب سے پہلے اوپن مارکیٹ میں خریداری کی اجازت دی جائے گی۔ بعد میں یہ سہولت دیگر صارفین تک توسیع دی جائے گی۔

کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں آف گرڈ اور نیٹ میٹرنگ سولر نظام کی مجموعی صلاحیت 18000 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے جس سے نیشنل گرڈ کے استحکام کو چیلنجز درپیش ہیں۔ حکومت قابل تجدید توانائی کے انضمام کے اثرات کی نگرانی کر رہی ہے۔

ڈاکٹر فخر عالم نے وضاحت کی کہ گرڈ سے حاصل کی جانے والی بجلی اور نیٹ میٹرنگ سے پیدا ہونے والی بجلی میں لاگت کا فرق نمایاں ہے۔ گرڈ سے حاصل شدہ بجلی پر 14 روپے فی یونٹ استعداد لاگت اور 9 روپے ٹیکسز عائد ہوتے ہیں، جبکہ نیٹ میٹرنگ بجلی نسبتاً سستی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیٹ میٹرنگ کی صلاحیت 6000 میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ آف گرڈ سولر سسٹمز کی تنصیب 12000 میگا واٹ کے قریب ہے، جو سیٹلائٹ امیجری کے ذریعے تخمینے لگائے گئے ہیں۔

حکام نے خبردار کیا کہ اگر ان نظاموں کی افزائش کو محتاط انداز میں منظم نہ کیا گیا تو یہ نیشنل گرڈ کے استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

Related Posts