کراچی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں ایک 50 سالہ نشئی شخص یونس نے اپنے پڑوسی چار بچوں کو آگ لگا دی جس سے دو بچے جھلس کر ہلاک ہو گئے جبکہ بعد میں ملزم نے خود بھی اپنی جان دے دی۔
ڈی آئی جی ساؤتھ سید اسد رضا کے مطابق نشے کا عادی ملزم یونس غوثیہ مسجد کے قریب کچیلا گوٹھ میں رہائش پذیر تھا جہاں بچے اکثر اسے نشے کی وجہ سے اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے جس اس نے سخت غصے میں اکر اپنے پاس موجود ایک کمبل پر پیٹرول چھڑک پر اسے آگ لگائی اور پڑوسی کے بچوں پر پھینک دیا جبکہ ملزم نے پیٹرول سے بھری ہوئی بوتل بھی بچے پر پھینکی جس سے آگ سے شدت مزید بڑھ گئی۔
پولیس حکام کے مطابق جھلسنے والے بچوں فہمیدہ شوکت علی (13 سال)، ایاز قربان (2 سال)، فراز قربان (4 سال) اور سونی حسن (6 سال) کو فوری طور پر سول اسپتال کے برنز سینٹر لے جایا گیا جہاں فہمیدہ اور ایاز علاج کے دوران دم توڑ گئے۔ ایاز کے پورے جسم (100 فیصد) پر جلن تھی جبکہ فراز اور سونی زیر علاج ہیں تاہم ان کی حالت سنگین بتائی جا رہی ہے۔
حملے کے بعد ملزم یونس بھاگنے کی کوشش میں قریبی گودام کی دیوار پر چڑھ گیا مگر ناکام رہا جس کے بعد اس نے چھری سے اپنا گلا کاٹ لیا۔ اسپتال پہنچنے پر ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ پولیس اس خوفناک واقعے کی مزید تفتیش کر رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








