لاہور کے علاقے چائنہ اسکیم کی رہائشی جنت نامی خاتون پر اُس کے شوہر عثمان اور اہلِ خانہ نے ظلم و تشدد کی انتہا کر دی۔
13 سال قبل ہونے والی اس شادی کے نتیجے میں دونوں کے دو بچے ہیں 7 سالہ بیٹا اور 8 ماہ کی بیٹی مگر اس گھرانے کی کہانی انسانیت کے لیے شرم کا باعث بن گئی۔
ذرائع کے مطابق تقریباً ایک سال قبل عثمان نے اپنی بیوی پر سانپ چھوڑ دیا تھا تاکہ وہ مر جائے کیونکہ وہ دوسری شادی کرنا چاہتا تھا۔
جنت نے صرف اتنا کہا تھا کہ پہلے ہمارے اخراجات پورے کر لو، پھر جو مناسب سمجھو کرو، مگر یہ جملہ اُس کے لیے قیامت بن گیا۔
عثمان اپنی پسند کی لڑکی پر رقم نچھاور کرتا رہا جبکہ جنت اور بچوں کے لیے بنیادی ضروریات تک مہیا نہ کرتا تھا۔ اللہ کے فضل سے جنت اُس وقت سانپ کے حملے سے بچ گئی اور گھر کو بچانے کی کوشش کرتی رہی، مگر شوہر کا رویہ مزید سنگدل ہوتا گیا۔
8 اکتوبر 2025کو عثمان نے اپنی بہنوں اور ان کے شوہروں کو گھر بلایا۔ ایک بار پھر دوسری شادی کی بات چلی تو جنت نے کہاکہ پہلے ہمارے حالات بہتر کرو۔
یہ سن کر عثمان طیش میں آگیا اور اُس نے جنت پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا۔ ڈنڈوں سے سر پر وار کیے، ہڈیاں توڑ دیں ، پہلے خود سر عام جنسی تعلق قائم کیا پھر بہنوں کے شوہروں سے اجتماعی زیادتی کروائی۔
تشدد میں عثمان کی بہنیں، ان کے شوہر اور والدین بھی شامل تھے۔ جنت کا 7 سالہ بیٹا یہ تمام منظر اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا۔ جب جنت بے ہوش ہوگئی تو عثمان اُسے ہسپتال پہنچا کر جھوٹ بولا کہ اُس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔
ڈاکٹروں نے جب جنت کا معائنہ کیا تو جسم پر تشدد کے واضح نشانات دیکھ کر حیران رہ گئے۔ مزید جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ جنت کے ساتھ اجتماعی زیادتی بھی کی گئی ہے۔
ڈاکٹروں نے کوششوں سے اُس کی سانسیں بحال کیں تاہم وہ اب بھی زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔ جنت بول نہیں سکتی، صرف سن سکتی ہے۔
عثمان کو جب یقین ہوگیا کہ جنت زندہ نہیں بچے گی تو وہ ہسپتال سے فرار ہوگیا۔ بعد ازاں جنت کے والدین نے فوری طور پر عثمان اور اُس کے پورے خاندان کے خلاف مقدمہ درج کروایا، جس کے بعد پولیس نے عثمان کو گرفتار کرلیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








