فیصل آباد: قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ایک کارکن کو وزیر مملکت طلال چوہدری کو دھمکی آمیز فون کالز کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم کی شناخت منانوالہ گاؤں کے رہائشی ثاقب کے نام سے ہوئی ہے جس نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ یہ دھمکیاں اس نے تنظیم کے بعض عہدیداروں کی ہدایت پر دیں۔
تفتیش کے دوران ملزم ثاقب نے بتایا کہ چند ٹی ایل پی رہنماؤں نے اسے طلال چوہدری کا نمبر فراہم کیا اور فون کے ذریعے دھمکیاں دینے کی ہدایت کی۔
گرفتاری کے بعد جاری کردہ ویڈیو بیان میں ملزم نے اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر، قوم، اور شہریوں سے معافی مانگی۔ اُس نے کہا کہ مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے، میں سب سے معافی چاہتا ہوں۔ ثاقب نے مزید کہا کہ وہ گمراہ ہوا اور دوسروں کے بہکانے میں آ گیا۔
🚨🚨🚨🚨🚨
طلال چوہدری کو گالیاں، اور قتل کی دھمکیاں دینے والا ٹی ایل پی کا ایک دہشتگرد گرفتار — خوارجی گروہ ٹی ایل پی کے عہدیدار نے طلال چوہدری کا موبائل نمبر دیا، اور کہا کہ طلال چوہدری کو دھمکیاں دو pic.twitter.com/xToYuHw5Je
— Javed Iqbal (@javedeqbalpk1) October 16, 2025
اس نے عوام اور سوشل میڈیا صارفین سے اپیل کی کہ افواہیں پھیلانے کے بجائے ملک میں امن و استحکام کے لیے کام کریں۔پولیس نے ان عہدیداروں کی شناخت کے لیے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں جنہوں نے مبینہ طور پر ملزم کو ہدایات دیں۔
اس سے قبل پنجاب پولیس نے بتایا تھا کہ صوبے بھر میں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے 2,716 مظاہرین کو پُرتشدد احتجاج میں ملوث ہونے پر گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق لاہور سے 251، شیخوپورہ سے 178، منڈی بہاؤالدین سے 190، راولپنڈی سے 155، فیصل آباد سے 143، گوجرانوالہ سے 135، سیالکوٹ سے 128 اور اٹک سے 121 کارکنان کو گرفتار کیا گیا۔
پنجاب بھر میں مجموعی طور پر 76 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں سب سے زیادہ 39 مقدمات لاہور میں، اور 8 شیخوپورہ میں درج ہوئے۔
ان پُرتشدد مظاہروں میں 250 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ ایک انسپکٹر شہید ہوا۔
سب سے زیادہ زخمی لاہور میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 142 ہے، جبکہ شیخوپورہ میں 48 اہلکار زخمی ہوئے۔پولیس ترجمان کے مطابق امن و امان کی مکمل بحالی تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








