پاکستانی پہلوان رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ایران کا اسلحہ یمن پہنچانے پر 40 سال قید

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

امریکی ریاست ورجینیا کی وفاقی عدالت نے پاکستانی شہری محمد پہلوان کو یمن کے حوثی باغیوں کو غیر قانونی طور پر میزائل اور اسلحہ اسمگل کرنے کے جرم میں 40 سال قید کی سزا سنا دی۔

بی بی سی کے مطابق 49 سالہ پہلوان پر الزام تھا کہ وہ ایرانی ساختہ بیلسٹک میزائل کے پرزے اور دیگر ہتھیار ایران سے یمن منتقل کرتا رہا اور اپنی شناخت چھپانے کے لیے خود کو اور اپنی ٹیم کو ماہی گیر ظاہر کرتا تھا۔ اسے 5 جون 2025 کو متعدد الزامات کے تحت بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی اور اسلحہ اسمگلنگ کے جرم میں مجرم قرار دیا گیا۔

محمد پہلوان کو جنوری 2024 میں امریکی بحریہ کے ایک خصوصی آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، جو بحیرۂ عرب میں انجام دیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران دو امریکی ملاح ڈوب کر ہلاک ہوئے۔ امریکی فوج نے اس آپریشن کو ایران کے حوثیوں تک ہتھیار پہنچانے والے نیٹ ورک کے خاتمے میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پہلوان نے اس سے قبل اکتوبر اور دسمبر 2023 میں ایران کی چابہار بندرگاہ سے یمن تک دو کامیاب اسمگلنگ مشن مکمل کیے تھے، جن میں اس نے ایران میں روزگار کی تلاش میں آئے ہوئے تقریباً 12 پاکستانی مزدوروں کو بھرتی کیا تھا۔

ایک عملے کے رکن نے عدالت میں بتایا کہ 11 جنوری کو وہ امریکی بحری جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کی آواز سے جاگے، لیکن پہلوان نے انہیں بتایا کہ یہ قزاق ہیں اور ہدایت دی کہ جہاز نہ روکا جائے۔ بعد میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں نے شدید مزاحمت کے بعد جہاز پر قبضہ کر کے تمام عملے کو حراست میں لے لیا۔

امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی اس وقت انجام دی گئی جب حوثیوں نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملے شروع کیے تھے، اور یہ ایران سے حوثیوں کے لیے ضبط کی جانے والی پہلی بڑی ہتھیاروں کی کھیپ تھی۔

Related Posts