نیا بنگلہ دیش یا نیا بحران؟ دارالحکومت میدانِ جنگ بن گیا، وجہ کیا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

ڈھاکہ، فوٹو الجزیرہ

بنگلہ دیش ایک بار پھر ہنگاموں کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ دارالحکومت ڈھاکہ کی سڑکیں احتجاجی نعروں سے گونج اٹھیں جب سیکڑوں افراد سیاسی چارٹر کے خلاف مظاہروں کے لیے باہر نکل آئے۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے جبکہ مشتعل ہجوم نے پولیس کی گاڑیاں بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق عوام حالیہ سیاسی اصلاحات کے روڈ میپ سے ناخوش ہیں۔ مظاہرین 2024 کی تحریک میں شریک کارکنوں کے لیے فلاح و بہبود کے نئے اقدامات اور حکومتی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ عبوری حکومت کے سربراہ اور نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محمد یونس نے عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کر رکھا ہے۔ ابتدا میں انتخابات اپریل میں کرانے کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم سیاسی جماعتوں کے دباؤ پر اب فروری 2026 میں پولنگ کی تاریخ تجویز کی گئی ہے۔

ڈاکٹر یونس نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ ان کا مقصد شفاف، پُرامن اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ’’نیا بنگلہ دیش‘‘ تعمیر کرنے کے خواب میں حکومت کا ساتھ دیں اور دعا کریں کہ عبوری سیٹ اپ کامیابی سے اقتدار منتخب حکومت کے حوالے کرے۔

Related Posts