سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن و تنازعات کے شعبے سے وابستہ ممتاز پروفیسر اشوک سوائن نے بھارت کی مودی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے ایک معنی خیز سوال اٹھایا ہے۔
پروفیسر اشوک سوائن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کراچی میں دیوالی کی خوشیوں کی ایک خوبصورت ویڈیو شیئر کی جس میں ہندو برادری رنگ برنگے لباسوں میں ملبوس، خوشی سے جھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ مندروں کو روشن دیاﺅں، رنگولی اور آتشبازی سے سجایا گیا ہے اور ہر طرف خوشیوں کا سماں ہے۔
Pakistani Hindus celebrating Diwali – In much more fanfare than Indian Muslims are allowed to celebrate Eid in India under Modi rule! pic.twitter.com/ocSU0txlNT
— Ashok Swain (@ashoswai) October 18, 2025
اس ویڈیو کے ساتھ پروفیسر نے تنقیدی انداز میں لکھا کہ پاکستان میں ہندو برادری دیوالی پورے جوش و خروش سے منا رہی ہے۔ کیا بھارت کے مسلمان بھی ایسی ہی آزادی اور تحفظ کے ساتھ عید منا سکتے ہیں؟۔
ان کا یہ بیان نہ صرف پاکستان میں اقلیتوں کو دی جانے والی مذہبی آزادی کا اعتراف ہے بلکہ بھارت میں اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کو درپیش چیلنجز پر ایک براہِ راست سوال بھی ہے۔
پروفیسر اشوک سوائن کا پیغام واضح تھا کہ پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو نہ صرف اپنے عقائد پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے بلکہ حکومت اور معاشرہ بھی اُن کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے۔ دوسری طرف اُنہوں نے بھارت میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
کراچی کی اس ویڈیو میں دیوالی کی رنگینی، مذہبی ہم آہنگی اور معاشرتی ہم بستگی کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا جو پروفیسر کے مطابق ایک مثبت مثال ہے کہ کس طرح مذہبی اقلیتوں کو برابر کا شہری سمجھا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ بھارتی پروفیسر اشوک سوائن نے بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کو موت کا سوداگر قرار دیا تھا جس پر مودی حکومت نے پروفیسر اشوک سوائن کا اوورسیز سٹیزن کارڈ منسوخ بھی کردیا تھا تاہم بعد میں عدالت نے اسے کالعدم قرار دے دیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








