اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں معاشی ترقی اور شمولیت کے عمل میں خواتین ملازمین کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
ورلڈ بینک گروپ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر واشنگٹن ڈی سی میں منعقدہ ایک نشست میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مستقبل کی معاشی پالیسی کا عزم آجر خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی بنیاد پر معاشی شرکت کو فروغ دینے کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے برابری پر بینکاری نامی پالیسی متعارف کروائی تھی جس نے مالی شمولیت میں مرد اور خواتین کے درمیان فرق کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت ستمبر 2021 میں اگر خواتین کے فعال بینک اکاؤنٹس کی تعداد 20 ملین تھی تو اب جون 2025 تک یہ تعداد 37 ملین تک پہنچ چکی ہے۔
گورنر ایس بی پی نے مزید کہا کہ خواتین کو دیئے جانے والے قرضوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ مائیکرو فنانس بینکوں کے تحت خواتین قرض خواہ افراد کی تعداد 2021ء سے 2025 کے درمیان 200 فیصد بڑھی ہے۔ اسی طرح خواتین کی چھوٹے اور درمیانے درجے کی انٹرپرائزز (SMEs) اور زرعی قرضوں کے پورٹ فولیوز بھی اس عرصے میں دوگنے ہو گئے ہیں۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ بینکنگ شعبے نے گزشتہ تین سال کے دوران 14 ہازار 600 سے زائد خواتین کو اپنی افرادی قوت میں شامل کیا ہے جو صنفی شمولیت کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








