پاکستان سپر لیگ کی فرنچائز ملتان سلطانز کے مالک علی خان ترین نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے موصول ہونے والے قانونی نوٹس کو لائیو ویڈیو میں پھاڑ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا، پی سی بی نے انہیں لیگ کے انتظامی معاملات پر تنقید کرنے پر بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
پی سی بی نے گزشتہ ماہ ملتان سلطانز کو ایک قانونی نوٹس بھیجا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ علی خان ترین اپنے حالیہ بیانات واپس لیں اور بورڈ کے خلاف عوامی سطح پر معافی مانگیں بصورت دیگر ان کی فرنچائز کا معاہدہ منسوخ کر دیا جائے گا اور انہیں مستقبل میں کسی بھی کرکٹ ٹیم کی ملکیت سے مستقل طور پر محروم کر دیا جائے گا۔
ملتان سلطانز نے اپنے بیان میں کہا کہ پی سی بی کی جانب سے تعمیری تنقید کو جرم قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ طرزِ عمل انتظامیہ کی کم ظرفی کو ظاہر کرتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ پی ایس ایل میں شفافیت یا جواب دہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ فرنچائز کے مطابق، علی ترین کی نیت صرف لیگ کو مضبوط اور بہتر بنانے کی ہے، نہ کہ کسی ذاتی مفاد کے لیے تنقید کرنے کی۔
The PSL Management has sent me a notice threatening to cancel Multan Sultans unless I offer them a public apology. Hazir Saeen. pic.twitter.com/yHWCcClXaD
— Ali Khan Tareen (@aliktareen) October 23, 2025
اگر پی سی بی نے واقعی علی خان ترین کو بلیک لسٹ کر دیا تو وہ موجودہ دس سالہ معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ملتان سلطانز کی ملکیت دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بولی میں حصہ نہیں لے سکیں گے تاہم اس دھمکی کے باوجود علی خان ترین نے اپنا مؤقف تبدیل نہیں کیا بلکہ اسے مزید سخت لہجے میں دہرایا۔
انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی جس میں طنزیہ انداز میں کہا کہ مجھے پی سی بی کی طرف سے کوئی فون، پیغام یا دعوت نامہ نہیں ملا بلکہ سیدھا قانونی نوٹس بھیج دیا گیا۔ اگر آپ تھوڑے زیادہ قابل ہوتے تو جانتے کہ ایسے معاملات اس طرح حل نہیں کیے جاتے۔
علی خان ترین نے مزید کہا کہ ان کی قانونی ٹیم کے مطابق معافی کی کوئی ضرورت نہیں لیکن اگر پی ایس ایل کے مفاد میں ہو تو وہ معافی دینے کو تیار ہیں۔ ویڈیو کے اختتام پر انہوں نے پی سی بی کا نوٹس پھاڑ کر کہا کہ تو امید ہے آپ کو میری معافی کی ویڈیو پسند آئی ہوگی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پی ایس ایل کی تمام فرنچائزز کے 10 سالہ معاہدوں کی مدت دسمبر میں ختم ہونے جا رہی ہے اور نئی بولی کے ذریعے دوبارہ ملکیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔
علی ترین نے طویل عرصے سے پی سی بی کی پالیسیوں، شفافیت کی کمی اور رابطے کے فقدان پر کھل کر تنقید کی ہے، جس سے ان کے اور بورڈ کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








