پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے پانچ سال کے وقفے کے بعد برطانیہ کے لیے براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔
ہفتہ کے روز اسلام آباد سے مانچسٹر کے لیے پہلی پرواز روانہ ہوئی جس نے قومی فضائی کمپنی کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے۔
پہلے مرحلے میں پی آئی اے اسلام آباد اور مانچسٹر کے درمیان ہفتے میں دو پروازیں چلائے گی جو منگل اور ہفتے کے دن روانہ ہوں گی۔ دوسرے مرحلے میں پروازوں کا دائرہ کار برمنگھم اور لندن تک بڑھایا جائے گا۔
برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے پی آئی اے کو فارَن ایئرکرافٹ آپریٹنگ پرمٹ جاری کیا ہے، جو پروازوں کی بحالی کے لیے آخری درکار منظوری تھی۔ اس سے قبل پی آئی اے کو تھرڈ کنٹری آپریٹر کی اجازت بھی مل چکی تھی۔
یاد رہے کہ 2020 میں کراچی طیارہ حادثے اور پائلٹ لائسنس اسکینڈل کے انکشافات کے بعد پی آئی اے پر برطانیہ میں پروازوں کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔
جولائی 2025 میں برطانوی حکومت نے پاکستانی ایوی ایشن اتھارٹیز کی جانب سے حفاظتی اقدامات میں نمایاں بہتری کے بعد یہ پابندی ختم کر دی۔
پی آئی اے کی پروازوں کی بحالی نہ صرف پاکستان کی فضائی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے لیے بھی بڑی سہولت ثابت ہوگی۔ اس اقدام سے وطن واپسی اور سفر کے دوران براہِ راست اور آرام دہ سفری سہولت میسر آئے گی۔
ماہرین کے مطابق ان پروازوں کی بحالی سے پی آئی اے کی مالی حالت میں بھی بہتری آئے گی کیونکہ برطانیہ کے روٹس ماضی میں ادارے کے سب سے زیادہ منافع بخش راستوں میں شمار ہوتے تھے۔
یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب حکومتِ پاکستان قومی ایئر لائن کی نجکاری کے عمل پر کام کر رہی ہے اور ان راستوں کی بحالی سے پی آئی اے کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








