ہالی ووڈ کی معروف فلم ساز کیتھرین بگلو کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم اے ہاؤس آف ڈائنامائٹ کو شائقین اور ناقدین دونوں کی جانب سے زبردست پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
اس فلم کا اسکرپٹ نوح اوپین ہائیم نے لکھا ہے، جو سنسنی خیز مناظر، گہری حقیقت پسندی اور غیر معمولی فلمی ترتیب کے باعث موجودہ دور کے بہترین تھرلرز میں شمار کی جا رہی ہے۔
فلم کو ایک ایسا طاقتور اور اعصابی طور پر جھنجھوڑ دینے والا تجربہ قرار دیا جا رہا ہے جو ناظرین کو ایک ایسے خوفناک مگر ممکنہ حقیقت پر مبنی منظرنامے میں لے جاتا ہے جس سے نظریں ہٹانا مشکل ہو جاتا ہے۔
کئی ناقدین نے اسے کیتھرین بگلو کی سابقہ کامیاب فلموں دی ہرٹ لاکر اور زیرو ڈارک تھرٹی کے ہم پلہ قرار دیا ہے جن کی طرح اس فلم میں بھی تیز رفتار، حقیقت سے قریب اور غیر معمولی طور پر جاذبِ توجہ فلم سازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔
یہ فلم تین ابواب پر مشتمل ہے، جن میں ایک ہی مختصر مگر تباہ کن وقت کے حصے کو مختلف کرداروں کے زاویے سے دکھایا گیا ہے۔
ناقدین کے مطابق اس طرزِ کہانی نے فلم کے تناؤ اور اخلاقی پیچیدگیوں کو مزید گہرا کر دیا ہے، جو ناظرین کو مسلسل تجسس اور اضطراب میں رکھتا ہے۔
فلم کے مرکزی کرداروں میں ادریس البا اور ریبیکا فرگوسن شامل ہیں، جن کی عمدہ اداکاری کو بے حد سراہا جا رہا ہے۔ ان کی کارکردگی نے فلم کے سنجیدہ موضوع میں انسانی خوف، دباؤ اور پیشہ ورانہ مہارت کو حقیقی رنگ بخشا ہے۔
فلم ریویو ویب سائٹ روٹن ٹومیٹوز کے مطابق اے ہاؤس آف ڈائنامائٹ کو سرٹیفائیڈ فریش کا درجہ دیا گیا ہے۔
ناقدین کا متفقہ خیال ہے کہ یہ فلم ایک حقیقی اور اعصاب شکن تجربہ پیش کرتی ہے جو ایک ڈراؤنے مگر ممکنہ المیے کو نہایت باریک بینی سے پیش کرتی ہے۔
البتہ کچھ ناقدین نے اس کے بار بار مختلف زاویوں سے دکھائے گئے مناظر کو قدرے طویل اور تھکا دینے والا قرار دیا ہے، جبکہ بعض کے نزدیک فلم کا اختتام غیر متوقع اور مبہم ہونے کی وجہ سے غیر تسلی بخش محسوس ہوتا ہے۔
کچھ ناقدین نے فلم پر امریکی فوجی اور سرکاری اداروں کی غیر حقیقت پسندانہ مثالی تصویر کشی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔
مجموعی طور پر اے ہاؤس آف ڈائنامائٹ کو ایک طاقتور، حقیقت پر مبنی سیاسی و تباہ کن تھرلر قرار دیا جا رہا ہے، جو ناظرین کو ایٹمی خطرات اور طاقت کے غلط استعمال کے ممکنہ انجام پر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








