سابق گلوکار جنید جمشید کے بیٹے سیف اللہ جنید نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے والد نے طیارہ حادثے سے چند ماہ پہلے ہی شہادت کی دعا مانگنا شروع کر دی تھی۔
جیو پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے سیف اللہ نے جذباتی انداز میں اپنے والد کی یادیں تازہ کیں اور بتایا کہ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو وہ صرف 14 سال کے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ حادثے سے تقریباً چھ سے آٹھ ماہ پہلے والد اکثر والدہ سے کہا کرتے تھے کہ پریشان نہ ہوں کیونکہ وہ اللہ سے شہادت کی دعا کر رہے ہیں۔ سیف اللہ کے مطابق ان کے والد مسلسل کئی مہینوں تک اللہ سے شہادت کی التجا کرتے رہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کر لی۔
سیف اللہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کی خبر بالکل اچانک آئی کیونکہ وہ کسی بیماری میں مبتلا نہیں تھے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ اور سکون کی جھلک تھی جو آج تک ان کی یادوں میں زندہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب حادثے کے بعد لوگ تعزیت کے لیے گھر آنے لگے تو خاندان کے افراد اب بھی یہ سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ حقیقت میں کیا ہوا ہے۔
اپنے بچپن کا ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے سیف اللہ نے کہا کہ ایک دن ان کی والدہ نے بتایا کہ ان کے والد نے موسیقی کے زمانے کی ایک پرانی تصویر دکھا کر پوچھا کہ یہ کون ہے؟”سیف اللہ نے کچھ دیر سوچ کر جواب دیا انکل۔ یہ سن کر والد نے مسکرا کر کہاکہ الحمدللہ اور خوش ہوئے کہ ان کے بیٹے نے انہیں اُس پرانے روپ میں پہچانا نہیں۔
یاد رہے کہ دسمبر 2016 میں چترال سے اسلام آباد آنے والی پی آئی اے کی پرواز حادثے کا شکار ہوئی تھی جس میں جنید جمشید ان کی اہلیہ نیہا جمشید اور دیگر 48 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








