پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم انوارالحق کے خلاف کل عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
پارٹی کے اندر اس وقت نئے وزیراعظم کے امیدوار کے انتخاب اور آئندہ کابینہ کی تشکیل سے متعلق مشاورت جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے انتخاب کے فوراً بعد نئی کابینہ کے اعلان کی توقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے۔
پاکستان مسلم لیگ کی حمایت کے بعد پیپلز پارٹی کے پاس اب اسمبلی میں 36 ووٹ موجود ہیں جو حکومت کی تبدیلی کے لیے درکار اکثریت سے زیادہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی نے حکمتِ عملی کے طور پر عدم اعتماد کی تحریک پیش کیے جانے سے قبل نئے وزیراعظم کے امیدوار کا نام خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت اور آزاد کشمیر کے صدر بیرسٹر سلطان محمود کے درمیان طویل عرصے بعد رابطے بحال ہو گئے ہیں۔
گزشتہ روز فریال تالپور نے کشمیر ہاؤس میں صدر بیرسٹر سلطان محمود سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کو ریاست کے آئینی سربراہ کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہے گا اور انہیں منصبِ صدارت سے ہٹانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی میں حالیہ دنوں میں بیرسٹر سلطان کے قریبی کئی رہنما شامل ہوئے ہیں۔ ان کے صاحبزادے یاسر سلطان، جو اسمبلی کے رکن بھی ہیں، پہلے ہی پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔
یاد رہے کہ بیرسٹر سلطان محمود ماضی میں پیپلز پارٹی کے دور میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر دونوں رہ چکے ہیں، تاہم بعد ازاں وہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے وزیراعظم کیلئے چار ناموں پر غور کیا جن میں سے ممکنہ طور پر چوہدری یاسین کے نام کو فائنل کرلیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








