حیدر آباد میں اسپتال بھر گئے، ڈینگی مریضوں کے لیے جگہ کم پڑنے لگی

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی تصویر

حیدرآباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ او) نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شہر میں ڈینگی کے 201 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جو ڈینگی کے خطرناک پھیلاؤ کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ڈی ایچ او کے مطابق ڈینگی کیسز میں مسلسل اضافے کے باعث مقامی اسپتالوں پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، جہاں روزانہ درجنوں مریض علاج کے لیے داخل کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ صحت نے شہریوں کو سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں پانی کے کھڑے ذخائر کو ختم کرنا اور مچھر بھگانے والی دوا کا استعمال شامل ہے۔

اس دوران لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (ایل یو ایم ایچ ایس) کی انتظامیہ نے بتایا ہے کہ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں اسپتال کی لیبارٹری میں ڈینگی کے 7,000 سے زائد کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ شہر میں حالیہ برسوں کے بدترین ڈینگی پھیلاؤ میں سے ایک ہے۔

لیاقت یونیورسٹی اسپتال (ایل یو ایچ) کی انتظامیہ کے مطابق شہر کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے دوران دم توڑنے والے 17 مریضوں کے ڈینگی ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

انتظامیہ نے بتایا کہ زیادہ تر جاں بحق افراد گنجان آباد شہری علاقوں کے رہائشی تھے، جہاں کھڑے پانی اور ناقص صفائی کے باعث مچھروں کی افزائش میں اضافہ ہوا ہے۔

کمشنر حیدرآباد کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں اب تک ڈینگی بخار سے براہِ راست تین اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 14 اموات گھروں میں ہوئیں جن کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان افراد کو بھی ڈینگی کا انفیکشن لاحق تھا یا نہیں۔

Related Posts