بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد میں ایک دل دہلا دینے والے واقعہ سامنے ایا ہے جہاں 4 افراد نے چلتی گاڑی میں 15 سالہ کم عمر لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ لڑکی فرید آباد کے سیکٹر 18 کی رہائشی ہے اور ایک نجی اسکول کی طالبہ ہے جو کہ 22 سالہ ملزم کو گزشتہ 2 ماہ سے جانتی ہے۔اتوار کی شام دونوں نے ملنے کا پروگرام بنایا تاہم لڑکا اپنے 3 مزید دوستوں کو ساتھ لے آیا اور اسے قائل کیا کہ تھوڑی دیر ڈرائیو کرکے گھر واپس چلے جائیں گے۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس اوشا دیوی نے بتایا کہ ملزمان نے لڑکی کو اتر پردیش کے وریاناوان کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنایا۔ پولیس کا خیال ہے کہ سفر کے دوران انہوں نے لڑکی کو نشہ آور دوائیوں سے ملاوٹ شدہ مشروبات پلائے جس کے بعد چلتی ہوئی گاڑی میں ہی اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی گئی۔
ڈی سی پی اوشا دیوی نے کہاکہ متاثرہ کو شاید نشہ آور مشروبات دیئے گئے جس کے بعد گاڑی میں ہی اس کا زیادتی کا واقعہ پیش آیا۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ واقعہ بالکل کس جگہ پیش آیا شاید گاڑی چلتے ہوئے ہی ہوا ہو۔
یہ سارا واقعہ رات بھر جاری رہا اور ملزمان نے پیر کی صبح تقریباً تین بجے لڑکی کو گھر کے باہر اتار دیا۔ گھر پہنچنے پر لڑکی کی حالت بہت خراب تھی وہ بے ہوشی کی حالت میں اور الجھن کا شکار تھی۔ یہ دیکھ کر اس کی بہن نے فوری طور پر پرانا فرید آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی جس کے بعد اجتماعی زیادتی کا معاملہ سامنے آیا۔
لڑکی کو گھر چھوڑنے کے فوراً بعد مرکزی ملزم غائب ہو گیا اور اس کا موبائل فون بھی بند کر دیا۔ ڈی سی پی دیوی نے بتایا کہ شدید صدمے کی وجہ سے متاثرہ لڑکی ابھی تک واقعے کی مکمل تفصیلات بیان کرنے کے قابل نہیں ہے۔ اسپتال میں ابتدائی علاج کے بعد اس کی حالت مستحکم ہو گئی تھی جس کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا۔ بیان ریکارڈ ہونے کے بعد ہی مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
پولیس نے پرانا فرید آباد اسٹیشن پر بھارتیہ نیا سنیہیتا کی دفعہ نمبر 123 (زہر دے کر چوٹ پہنچانا جس سے کوئی جرم کیا جائے)، 351(3) (موت، شدید چوٹ یا عورت کی بے عزتی کی دھمکی دے کر مجرمانہ دھمکی) اور 96 (بچے کا اغوا) سمیت، اور پی او سی ایس او ایکٹ کی دفعہ 6 (شدید جنسی زیادتی) اور 17 (جرم میں مدد) کے تحت ایف آئی آر درج کر لی ہے۔
ایس آئی ٹی کی قیادت کر رہے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس سنجیو کمار نے تصدیق کی کہ مرکزی ملزم اتر پردیش کا رہنے والا ہے اور فی الحال گرفتاری سے بھاگ رہا ہے۔ جرم میں استعمال ہونے والی گاڑی، جو ملزم کی بہن کی ملکیت ہے کی نشاندہی ہو گئی ہے مگر ابھی تک برآمد نہیں کی جا سکی۔ پولیس کی دو ٹیمیں اتر پردیش کے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہیں تاکہ ملزم اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کیا جا سکے۔
یہ واقعہ خواتین اور بچیوں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے اور پولیس نے یقین دلایا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








