اتوار 2 نومبر کو مسیحی برادری دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آل سولز ڈے عقیدت کے ساتھ منائے گی، یہ دن اُن تمام مرحوم ایمانداروں کی یاد اور دعا کے لیے مخصوص ہے جو مسیحی عقیدے کے مطابق خدا کے حضور دائمی سکون کے منتظر ہیں۔
آل سولز ڈے مسیحی تقویم میں ایک روحانی اور عبادتی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کے موقع پر چرچز میں خصوصی عبادات، تلاوتِ مقدس کلام، اور اجتماعی دعائیں منعقد کی جاتی ہیں۔
عقیدت مند مسیحی افراد اپنے پیاروں کی قبور پر حاضری دیتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں، موم بتیاں روشن کرتے ہیں اور مرحومین کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
پاکستان میں یہ دن خصوصاً کراچی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، ملتان اور کوئٹہ جیسے شہروں میں نہایت احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
مسیحی اپنے مرحوم رشتہ داروں کی قبور پر جاتے ہیں۔ قبرستانوں کو صاف کیا جاتا ہے، پھولوں اور موم بتیوں سے سجایا جاتا ہے اور خاموشی میں دعا کی جاتی ہے۔ بعض جگہوں پر اجتماعی عبادتی اجتماعات بھی ہوتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق آل سولز ڈے دراصل آل سینٹس ڈے کے اگلے دن منایا جاتا ہے۔
جہاں آل سینٹس ڈے اُن مقدس ہستیوں کے لیے منایا جاتا ہے جو خدا کے حضور جلال میں داخل ہو چکے ہیں، وہیں آل سولز ڈے اُن تمام مرحوم ایمانداروں کے لیے دعا کا دن ہے جو ابھی تک خدا کے حضور مکمل پاکیزگی کے سفر میں ہیں۔
کیتھولک چرچ کی تعلیمات کے مطابق اس دن دعائیں، خیرات اور مقدس عشائے ربانی کی پیشکش اُن روحوں کے لیے نجات اور آرام کا ذریعہ بن سکتی ہے جو ابھی مکمل تطہیر کے مرحلے میں ہیں۔
پاکستانی مسیحی برادری کے لیے آل سولز ڈے نہ صرف غم اور یاد کا دن ہے بلکہ ایمان، امید اور دعا کی تجدید کا موقع بھی ہے۔
اس موقع پر مختلف مسیحی تنظیمیں غریب اور نادار افراد کے لیے خیراتی سرگرمیاں بھی انجام دیتی ہیں، تاکہ مرحومین کی یاد کو نیکی کے عمل کے ساتھ جوڑا جا سکے۔
کل ملک بھر میں چرچز میں خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پولیس اور انتظامیہ نے قبرستانوں اور چرچز کے باہر سیکورٹی سخت کر دی ہے تاکہ عقیدت مند شہری پُرامن طریقے سے عبادت اور دعا میں شریک ہو سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








