گلگت بلتستان میں آج آزادی کی 78ویں سالگرہ قومی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ یکم نومبر 1947 کو گلگت کے بہادر عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی تھی جس دن کو آج بھی اس خطے کے عوام تاریخی اور قومی فخر کے طور پر مناتے ہیں۔
آزادی کی مرکزی تقریب شہداء یادگار پر منعقد کی جائے گی، جہاں صدر مملکت آصف علی زرداری خصوصی مہمانِ تقریب ہوں گے۔ تقریب میں قومی پرچم لہرایا جائے گا، ملکی سلامتی کے لیے دعائیں کی جائیں گی اور آزادی کے متوالوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جائے گا۔
گلگت بلتستان کا کل رقبہ 72 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ہے۔ 27 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ کشمیر نے بھارتی فوجوں کو وادی کشمیر میں داخل ہونے کی اجازت دی، جس کے بعد گلگت کے مقامی سپاہیوں اور عوام نے آزادی کی تحریک کو منظم کیا۔
31 اکتوبر 1947 کی شب گلگت اسکاؤٹس کے سربراہ صوبیدار میجر راجہ بابر خان کی قیادت میں ڈوگرہ راج کے گورنر بریگیڈیئر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا گیا۔ اگلے روز، یعنی یکم نومبر 1947 کو گلگت کو باضابطہ طور پر ڈوگرہ اور بھارتی تسلط سے آزاد کرا لیا گیا۔
گلگت اسکاؤٹس اور مقامی عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں یہ علاقہ پاکستان کی انتظامی تحویل میں آیا، جہاں آج یہ ایک اہم اور منفرد انتظامی حیثیت رکھتا ہے۔
اس روز گلگت بلتستان بھر میں سرکاری و نجی سطح پر تقریبات، ملی نغمے، جلسے اور مشعل بردار ریلیاں نکالی جاتی ہیں، جن میں آزادی کے ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔
گلگت بلتستان کی یہ آزادی محض علاقائی کامیابی نہیں بلکہ برصغیر کی تاریخ میں ایک نمایاں باب کی حیثیت رکھتی ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ آزادی ہمیشہ قربانی اور جرات کے سفر سے حاصل ہوتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








