مری کے علاقے بھوربن میں واقع ایک مقامی ہوٹل پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈانس پارٹی کے نام پر اکٹھے ہونے والے افراد کو حراست میں لے لیا اور مجموعی طور پر نوے افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار شدہ افراد میں 32خواتین اور 58مرد شامل تھے جبکہ موقع سے چھ لیٹر شراب بھی برآمد ہوئی۔ واقعے کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور مقامی انتظامیہ نے کہا ہے کہ واقعے کی مکمل تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ رات دیر گئے ہونے والی محفل میں لاؤڈ میوزک چل رہا تھا اور شرکاء بعض اوقات نیم برہنہ حالت میں بھی نظر آئے، اس لیے مقامی قانون کے تحت کارروائی ضروری قرار دی گئی۔
معاملے کی خبر سوشل میڈیا پر عام ہوتے ہی صارفین نے متنوع ردِ عمل کا اظہار کیا۔ کچھ صارفین نے کارروائی کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ قوانین کے تحت ایسے اجتماعات کو روکا جانا چاہیے جب کہ دیگر صارفین نے اسے ذاتی آزادی اور پرائیویسی کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ بالغ افراد کو اپنی زندگی گزارنے کا حق ہونا چاہیے جب تک کہ وہ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں۔
مری بھوربن کے مقامی ہوٹل میں ڈانس پارٹی پر چھاپہ۔ 90افراد گرفتار، 32 لڑکیاں، 58مرد شامل۔ مقدمہ درج کرلیا گیا۔ چھ لیٹر شراب برآمد، لاوڈ میوزک اور نیم برہنہ حالت میں ڈانس پارٹی ہو رہی تھی۔
سیاحت کے نام پر ایسی فخش ڈانس پارٹیز کےخلاف پاکستان کےتمام سیاحتی مقامات پر ایکشن ہوناچاہیئے۔ pic.twitter.com/X6tKgEWsNP— چوہدری شاہد محمود (@CSMR786) November 2, 2025
بعض تبصروں میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایسے معاملات میں یکساں عمل کیوں نہیں ہوتا، مخصوص ہوٹلوں اور سیاحتی مراکز میں شراب اور تفریح کی اجازت موجود ہونے کے باعث شہریوں نے دہرے معیار کی نشاندہی بھی کی۔
سوشل میڈیا پر ایک دوسرے گروہ نے واقعے کو مذہبی یا اخلاقی بنیادوں پر تنقید کا ذریعہ بنایا اور فوراً سخت اقدامات کا مطالبہ کیا کچھ صارفین نے اس واقعے کو سیاسی اور ثقافتی بحث میں تبدیل کرتے ہوئے حکومت، پارٹیوں اور معاشرتی روایات کے تعلق سے شدید جذبات کا اظہار بھی کیا۔
اس سب کے بیچ مقامی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف قانونی کاروائی عدالت میں زیرِ سماعت ہوگی اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق پیش کیا جائے گا۔
حکام نے تفتیش کے دوران بتایا کہ متاثرہ مقام، گرفتاریوں اور برآمدگی کی تفصیلات ریکارڈ میں شامل کر لی گئی ہیں اور مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ معاملے کے پسِ منظر اور ملوث فریقین کی مکمل شناخت کی جا سکے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ مقدمہ درج کر دیا گیا ہے، پھر بھی ملزمان کے خلاف حتمی کارروائی شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کی جائے گی، اور متاثرہ فریقین کی شناخت و تحفظ کو بھی مدِ نظر رکھا جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








