امریکی ٹیکنالوجی کی دنیا میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے اوپن اے آئی نے ایمیزون کے ساتھ 38 ارب ڈالر (تقریباً 29 ارب پاؤنڈ) مالیت کا سات سالہ معاہدہ کرلیا ہے۔
اس معاہدے کے تحت اوپن اے آئی کو ایمیزون کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ نیٹ ورک اور جدید ترین نویڈیا پروسیسرز تک رسائی حاصل ہوگی تاکہ وہ اپنی مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو مزید تربیت دے سکے۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اوپن اے آئی نے حال ہی میں اپنی تنظیمی ساخت میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں اور خود کو ایک غیر منافع بخش ادارے سے تجارتی ڈھانچے میں تبدیل کیا ہے تاکہ مائیکروسافٹ سے مالی اور انتظامی خودمختاری حاصل کی جا سکے۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین نے معاہدے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے اگلے دور کو آگے بڑھانے کے لیے وسیع اور قابل اعتماد کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہے۔ ایمیزون کے ساتھ یہ شراکت داری اس شعبے میں ایک مضبوط بنیاد فراہم کرے گی۔
رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران اوپن اے آئی نے اوریکل، براڈکام، اے ایم ڈی اور نویڈیا جیسے عالمی اداروں کے ساتھ ایک کھرب ڈالر سے زائد کے معاہدے کیے ہیں تاکہ اپنی ٹیکنالوجی کو تیز رفتاری سے ترقی دے سکے۔
اس نئے معاہدے کے بعد اوپن اے آئی کی مائیکروسافٹ پر انحصار میں واضح کمی آئے گی، جو اب تک اس کا سب سے بڑا شراکت دار تھا۔
ماہرین کے مطابق، اوپن اے آئی اپنی قیادت برقرار رکھنے کے لیے کمپیوٹنگ پاور کے زیادہ سے زیادہ ذرائع حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کر رہا ہے۔
بروک کیپیٹل پارٹنرز کی چیف انویسٹمنٹ آفیسر کم فاریسٹ کے مطابق یہ معاہدہ ظاہر کرتا ہے کہ اوپن اے آئی سمجھتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی قیادت حاصل کرنے کا راستہ زیادہ سے زیادہ کمپیوٹنگ طاقت تک رسائی میں پوشیدہ ہے۔
دوسری جانب مائیکروسافٹ کے حصص میں اس تبدیلی کے بعد معمولی ردوبدل دیکھا گیا جبکہ ایمیزون کے حصص میں ریکارڈ اضافہ ہوا جس سے کمپنی کی مجموعی مالیت میں 140 ارب ڈالر (تقریباً 106 ارب پاؤنڈ) کا اضافہ ہوا۔
ایمیزون ویب سروسز کے سی ای او میٹ گارمن نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم اوپن اے آئی کے وسیع مصنوعی ذہانت کے منصوبوں کو سپورٹ کرنے کی منفرد پوزیشن میں ہیں۔
یاد رہے کہ اوپن اے آئی کی کامیابی کا آغاز 2022 میں چیٹ جی پی ٹی کے لانچ کے ساتھ ہوا، جس نے مصنوعی ذہانت کو عام صارفین تک پہنچا دیا۔
تاہم تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب کے باعث ادارے کے اخراجات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے اور رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے گزشتہ سہ ماہی میں تقریباً 12 ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








