امریکی سیاست کی متنازع اور بااثر ترین شخصیات میں شمار ہونے والے سابق نائب صدر ڈک چینی 84 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کا انتقال 3 نومبر 2025 کو امریکی ریاست ورجینیا میں واقع اپنے گھر پر ہوا۔
ان کے اہلِ خانہ کے مطابق ڈک چینی کی موت نمونیا، دل اور خون کی نالیوں کی بیماری کے باعث ہوئی۔ انتقال کے وقت ان کی بیوی لن چینی، بیٹیاں لز اور مِیری سمیت قریبی رشتہ دار موجود تھے۔
ڈک چینی 30 جنوری 1941 کو امریکی ریاست نیبراسکا کے شہر لنکن میں پیدا ہوئے۔ ایک عام گھرانے سے تعلق رکھنے والے چینی نے سیاست میں طویل سفر طے کیا اور چار مختلف ری پبلکن صدور کے ساتھ خدمات انجام دیں۔
انہوں نے 1975 سے 1977 کے دوران صدر جرالڈ فورڈ کے دور میں وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف کی حیثیت سے کام کیا اور واٹرگیٹ اسکینڈل کے بعد کی سیاسی صورتِ حال سنبھالنے میں اہم کردار ادا کیا بعد ازاں وہ 1979 سے 1989 تک ریاست وائیومنگ سے کانگریس کے رکن رہے۔
1989 میں صدر جارج ایچ ڈبلیو بش نے انہیں وزیرِ دفاع مقرر کیا جہاں انہوں نے خلیجی جنگ (Gulf War) کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں کی نگرانی کی۔
ان کی سب سے زیادہ شہرت اور تنازعات اُس وقت سامنے آئے جب وہ 2001 سے 2009 تک صدر جارج ڈبلیو بش کے نائب صدر رہے۔ اس دوران انہیں امریکی تاریخ کے سب سے طاقتور نائب صدر کے طور پر جانا گیا۔
ڈک چینی کو وار آن ٹیرر (دہشت گردی کے خلاف جنگ) کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔ وہ 2001 کے پیٹریاٹ ایکٹ، عراقی جنگ (2003) اور ان ہینسڈ انٹروگیشن پالیسیوں (جنہیں بعد میں تشدد قرار دیا گیا) کے مرکزی منصوبہ سازوں میں شامل تھے۔
ان پالیسیوں کے باعث انہیں اندرون و بیرونِ ملک شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ عراق پر حملے کے جواز کے طور پر پیش کیے گئے تباہ کن ہتھیاروں کے دعوے جھوٹے ثابت ہوئے۔
چینی کی ذاتی زندگی بھی اتار چڑھاؤ سے خالی نہ تھی۔ نوجوانی میں انہیں شراب پی کر گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا جبکہ 37 سال کی عمر میں پہلا دل کا دورہ پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے متعدد بائی پاس سرجریاں کروائیں اور 2012 میں دل کی پیوندکاری کے بعد بھی کئی سال تک فعال سیاسی تجزیہ کار کے طور پر کام کرتے رہے۔
ڈک چینی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ میں ہر دن اس احساس کے ساتھ جاگتا ہوں کہ مجھے زندگی کا ایک اور تحفہ ملا ہے۔
ان کی موت کے ساتھ ہی ایک ایسا باب بند ہوا جس نے امریکا کی داخلی اور عالمی سیاست کو گہرائی سے متاثر کیا ایک ایسا سیاست دان جسے ایک طرف قومی سلامتی کا محافظ کہا گیا تو دوسری جانب جنگ کا معمار قرار دیا جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








