پاکستان میں دواؤں کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو ملک میں دستیاب 50 فیصد دوائیوں کی قیمتیں خود مقرر کرنے کا اختیار دے دیا ہے۔
ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان (DRAP) کے سی ای او ڈاکٹر عبید اللہ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے لازمی اور اہم دواؤں کی قیمتوں پر کنٹرول برقرار ہے لیکن باقی آدھی دوائیوں کی قیمتیں اب کمپنیوں کے اختیار میں ہیں۔
ڈاکٹر عبید اللہ نے کہا کہ 100 دوائیوں کا سروے مکمل کر لیا گیا ہے اور کسی بھی سرکاری ہدایت پر فوری عمل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں موجود مزید دوائیوں کی قیمتوں کا دوسرا مرحلہ بھی شروع کیا جائے گا تاکہ دیگر دواؤں کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس سے قبل وفاقی حکومت نے وہ دواؤں جو نیشنل ایسنشل میڈیسنز لسٹ (NEML) میں شامل نہیں تھیں کمپنیوں کو اپنی مرضی کی قیمتوں پر فروخت کرنے کی اجازت دی تھی۔
لازمی دواؤں کا مقصد یہ ہے کہ یہ ہر وقت دستیاب ہوں، مناسب مقدار میں موجود ہوں، درست خوراک کے ساتھ، معیار کے مطابق ہوں اور قیمت ایسی ہو جو عوام اور کمیونٹی کے لیے قابلِ برداشت ہو۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








