سندھ حکومت نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر کے کسانوں کی معاشی معاونت کے لیے ایک جامع اور تاریخی پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔
صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ حکومت سندھ کسانوں کو براہِ راست نقد امداد فراہم کرنے جا رہی ہے تاکہ وہ زرعی پیداوار میں اضافے اور خودکفالت کے حصول میں کردار ادا کر سکیں۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق اس پروگرام کے تحت ڈی اے پی کھاد کی خریداری کے لیے فی ایکڑ چودہ ہزار روپے کی پہلی قسط جاری کی جا رہی ہے، جب کہ گندم کی بوائی کے دو سے تین ہفتے بعد تصدیق کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
تصدیق کے بعد جن کسانوں کی گندم کی کاشت کی توثیق ہو جائے گی، انہیں فی ایکڑ مزید آٹھ ہزار روپے دیے جائیں گے تاکہ وہ دو بوری یوریا کھاد خرید سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف کسانوں کی فوری مالی مشکلات کو کم کرے گا بلکہ سندھ حکومت کے اس عزم کی عکاسی بھی کرتا ہے جو زرعی شعبے کو مضبوط بنانے، غذائی خودکفالت حاصل کرنے اور دیہی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل سرگرم ہے۔
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اب تک چار لاکھ انیس ہزار کسانوں کو اس پروگرام کے تحت امداد فراہم کی جا رہی ہے، اور یہ رقم “ہاری کارڈ” کے ذریعے دی جا رہی ہے۔
ہاری کارڈ کے اجرا کے لیے اب تک ساڑھے تین لاکھ سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے ایک لاکھ اسی ہزار کسانوں کی درخواستوں کی تصدیق مکمل کر لی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت نے صوبے میں ای چالان کا جدید نظام بھی شروع کیا ہے جسے عوامی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔ کراچی کی دو بڑی کاروباری شخصیات نے بھی اس نظام کو مثالی قرار دیا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مشکل فیصلے ہمیشہ وقتی طور پر تکلیف دہ ہوتے ہیں، مگر ان کا مقصد عوامی فلاح، نظم و ضبط کا قیام اور قانون کی پاسداری کو فروغ دینا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی خواہش ہے کہ چالان کی مد میں ایک روپیہ بھی وصول نہ کرنا پڑے کیونکہ اصل مقصد عوام کو قانون کی پابندی کا عادی بنانا ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئین شہید بھٹو نے دیا، اٹھارہویں ترمیم بھی پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں آئی، 26ویں آئینی ترمیم پر بھی چیئرمین بلاول بھٹو نے متحرک کردار ادا کیا ،27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے فیصلہ سی ای سی فیصلہ کرے گی۔
جو پاکستان، خطے اور عوام کے حق میں بہتر ہوگا پاکستان پیپلز پارٹی اسی کے مطابق فیصلہ کرے گی، تمام ترمیمی نکات سی ای سی میں پیش کئے جائیں گے، مرکزی مجلس عاملہ ہر نکتے کا بغور جائزہ لے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








